Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 164

  1. وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ﴿164﴾

    1. وَرُسُلًااور ایسے رسول (جمع)
    2. قَدْ قَصَصْنٰهُمْہم نے ان کا احوال سنایا
    3. عَلَيْكَآپ پر ( آپ سے)
    4. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    5. وَرُسُلًااور ایسے رسول
    6. لَّمْنہیں
    7. نَقْصُصْهُمْہم نے حال بیان کیا
    8. عَلَيْكَآپ پر ( آپ کو)
    9. وَكَلَّمَاور کلام کیا
    10. اللّٰهُاللہ
    11. مُوْسٰىموسیٰ
    12. تَكْلِيْمًاکلام کرنا (خوب)
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نےموسیٰ ؑ سے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے۔206
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 206 دوسرے انبیاء (علیہم السلام) پر تو وحی اس طرح آتی تھی کہ ایک آواز آرہی ہے یا فرشتہ پیغام سنا رہا ہے اور وہ سن رہے ہیں۔ لیکن موسیٰ ؑ کے ساتھ یہ خاص معاملہ برتا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے گفتگو کی۔ بندے اور خدا کے درمیان اس طرح باتیں ہوتی تھیں جیسے دو شخص آپس میں بات کرتے ہیں۔ مثال کے لیے اس گفتگو کا حوالہ کافی ہے جو سورة طٰہ میں نقل کی گئی ہے۔ بائیبل میں بھی حضرت موسیٰ کی اس خصوصیت کا ذکر اسی طرح کیا گیا ہے۔ چناچہ لکھا ہے کہ ”جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خداوند رو برو ہو کر موسیٰ سے باتیں کرتا تھا“۔ (خروج 33 11)