Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 33

  1. وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ع﴿33﴾

    1. وَلِكُلٍّاور ہر ایک کے لیے
    2. جَعَلْنَاہم نے مقرر کیے
    3. مَوَالِيَوارث
    4. مِمَّااس سے جو
    5. تَرَكَچھوڑ مریں
    6. الْوَالِدٰنِوالدین
    7. وَالْاَقْرَبُوْنَاور قرابت دار
    8. وَالَّذِيْنَاور وہ جو کہ
    9. عَقَدَتْبندھ چکا
    10. اَيْمَانُكُمْتمہار عہد
    11. فَاٰتُوْھُمْتو ان کو دے دو
    12. نَصِيْبَھُمْان کا حصہ
    13. اِنَّبیشک
    14. اللّٰهَاللہ
    15. كَانَہے
    16. عَلٰياوپر
    17. كُلِّ شَيْءٍہر چیز
    18. شَهِيْدًاگواہ (مطلع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدو پیمان ہوں تو ان کا حصّہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔55
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 55 اہل عرب میں قاعدہ تھا کہ جن لوگوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ کے عہد و پیمان ہوجاتے تھے وہ ایک دوسرے کی میراث کے حقدار بن جاتے تھے۔ اسی طرح جسے بیٹا بنا لیا جاتا تھا وہ بھی منہ بولے باپ کا وارث قرار پاتا تھا۔ اس آیت میں جاہلیت کے اس طریقے کو منسوخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وراثت تو اسی قاعدہ کے مطابق رشتہ داروں میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کردیا ہے، البتہ جن لوگوں سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کو اپنی زندگی میں تم جو چاہو دے سکتے ہو۔