Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 36

  1. وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ﴿36﴾

    1. وَاعْبُدُوااور تم عبادت کرو
    2. اللّٰهَاللہ
    3. وَلَا تُشْرِكُوْااور نہ شریک کرو
    4. بِهٖاس کے ساتھ
    5. شَيْئًاکچھ۔ کسی کو
    6. وَّاور
    7. بِالْوَالِدَيْنِماں باپ سے
    8. اِحْسَانًااچھا سلوک
    9. وَّاور
    10. بِذِي الْقُرْبٰىقرابت داروں سے
    11. وَالْيَتٰمٰياور یتیم (جمع)
    12. وَالْمَسٰكِيْنِاور محتاج (جمع)
    13. وَالْجَارِہمسایہ
    14. ذِي الْقُرْبٰىقرابت والے
    15. وَالْجَارِاور ہمسایہ
    16. الْجُنُبِاجنبی
    17. وَالصَّاحِبِ بالْجَنْۢبِاور پاس بیٹھنے والے (ہم مجلس)
    18. وَاور
    19. ابْنِ السَّبِيْلِمسافر
    20. وَمَااور جو
    21. مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْتمہاری ملک (کنیز۔ غلام
    22. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    23. لَا يُحِبُّدوست نہیں رکھتا
    24. مَنْجو
    25. كَانَہو
    26. مُخْتَالًااترانے والا
    27. فَخُوْرَۨابڑ مارنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناوٴ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاوٴ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آوٴ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی62 اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 62 متن میں ”الصاحب بالجنب“ فرمایا گیا ہے جس سے مراد ہم نشین دوست بھی ہے اور ایسا شخص بھی جس سے کہیں کسی وقت آدمی کا ساتھ ہوجائے۔ مثلاً آپ بازار میں جا رہے ہوں اور کوئی شخص آپ کے ساتھ راستہ چل رہا ہو، یا کسی دکان پر آپ سودا خرید رہے ہوں اور کوئی دوسرا خریدار بھی آپ کے پاس بیٹھا ہو، یا سفر کے دوران میں کوئی شخص آپ کا ہم سفر ہو۔ یہ عارضی ہمسائیگی بھی ہر مہذب اور شریف انسان پر ایک حق عائد کرتی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حتی الامکان اس کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اور اسے تکلیف دینے سے مجتنب رہے۔