تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 41
فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾
- فَكَيْفَپھر کیسا۔ کیا
- اِذَاجب
- جِئْنَاہم بلائیں گے
- مِنْسے
- كُلِّ اُمَّةٍہر امت
- بِشَهِيْدٍایک گواہ
- وَّجِئْنَااور بلائیں گے
- بِكَآپ کو
- عَلٰيپر
- هٰٓؤُلَآءِان کے
- شَهِيْدًاگواہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔ 64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 64
یعنی ہر دور کا پیغمبر اپنے دور کے لوگوں پر اللہ کی عدالت میں گواہی دے گا کہ زندگی کا وہ سیدھا راستہ اور فکر و عمل کا وہ صحیح طریق، جس کی تعلیم آپ نے مجھے دی تھی، اسے میں نے ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر یہی شہادت محمد ﷺ اپنے دور کے لوگوں پر دیں گے، اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا دور آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے قیامت تک ہے۔ (آل عمران، 69)