Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 51

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا﴿51﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اِلَىطرف (کو)
    3. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    4. اُوْتُوْادیا گیا
    5. نَصِيْبًاایک حصہ
    6. مِّنَسے
    7. الْكِتٰبِکتاب
    8. يُؤْمِنُوْنَوہ مانتے ہیں
    9. بِالْجِبْتِبت (جمع)
    10. وَالطَّاغُوْتِاور سرکش (شیطان)
    11. وَيَقُوْلُوْنَاور کہتے ہیں
    12. لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
    13. هٰٓؤُلَآءِیہ لوگ
    14. اَهْدٰىراہ راست پر
    15. مِنَسے
    16. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے (مومن)
    17. سَبِيْلًاراہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے عِلم میں سے کچھ حصّہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبْت81 اور طاغوت82 کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔83
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 81 جِبْت کے اصل معنی بےحقیقت، بےاصل اور بےفائدہ چیز کے ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت (جوتش) ، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون اور مہورت اور تمام دوسری وہمی و خیالی باتوں کو ”جبت“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے النیاقۃ والطرق والطیر من الجبت۔ یعنی جانوروں کی آوازوں سے فال لینا، زمین پر جانوروں کے نشانات قدم سے شگون نکالنا اور فال گیری کے دوسرے طریقے سب ”جِبت“ کا مفہوم وہی ہے جسے ہم اردو زبان میں اوہام کہتے ہیں اور جس کے لیے انگریزی میں (Superstitions) کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ سورة النِّسَآء 82 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة بقرہ 286 و 288۔ سورة النِّسَآء 83 علماء یہود کی ہٹ دھرمی یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جو لوگ محمد ﷺ پر ایمان لائے تھے ان کو وہ مشرکین عرب کی بہ نسبت زیادہ گمراہ قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان سے تو یہ مشرکین ہی زیادہ راہ راست پر ہیں۔ حالانکہ وہ صریح طور پر دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف خالص توحید ہے جس میں شرک کا شائبہ تک نہیں اور دوسری طرف صریح بت پرستی ہے جس کی مذمت سے ساری بائیبل بھری پڑی ہے۔