Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 55

  1. فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا﴿55﴾

    1. فَمِنْھُمْپھر ان میں سے
    2. مَّنْ اٰمَنَکوئی ایمان لایا
    3. بِهٖاس پر
    4. وَمِنْھُمْاور ان میں سے
    5. مَّنْکوئی
    6. صَدَّرکا رہا
    7. عَنْهُاس سے
    8. وَكَفٰىاور کافی
    9. بِجَهَنَّمَجہنم
    10. سَعِيْرًابھڑکتی ہوئی آگ
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑگیا، 87اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 87 یاد رہے کہ یہاں جواب بنی اسرائیل کی حاسدانہ باتوں کا دیا جا رہا ہے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ آخر جلتے کس بات پر ہو ؟ تم بھی ابراہیم کی اولاد ہو اور یہ بنی اسماعیل بھی ابراہیم ہی کی اولاد ہیں۔ ابراہیم سے دنیا کی امامت کا جو وعدہ ہم نے کیا تھا وہ آل ابراہیم میں سے صرف ان لوگوں کے لیے تھا جو ہماری بھیجی ہوئی کتاب اور حکمت کی پیروی کریں۔ یہ کتاب اور حکمت پہلے ہم نے تمہارے پاس بھیجی تھی مگر تمہاری اپنی نالائقی تھی کہ تم اس سے منہ موڑ گئے۔ اب وہی چیز ہم نے بنی اسماعیل کو دی ہے اور یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں۔