Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 6

  1. وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا﴿6﴾

    1. وَابْتَلُوااور آزماتے رہو
    2. الْيَتٰمٰىیتیم (جمع)
    3. حَتّٰىیہانتک کہ
    4. اِذَاجب
    5. بَلَغُواوہ پہنچیں
    6. النِّكَاحَنکاح
    7. فَاِنْپھر اگر
    8. اٰنَسْتُمْتم پاؤ
    9. مِّنْھُمْان میں
    10. رُشْدًاصلاحیت
    11. فَادْفَعُوْٓاتو حوالے کردو
    12. اِلَيْھِمْان کے
    13. اَمْوَالَھُمْان کے مال
    14. وَلَااور نہ
    15. تَاْكُلُوْھَآوہ کھاؤ
    16. اِسْرَافًاضرورت سے زیادہ
    17. وَّبِدَارًااور جلدی جلدی
    18. اَنْکہ
    19. يَّكْبَرُوْاکہ وہ بڑے ہوجائینگے
    20. وَمَنْاور جو
    21. كَانَہو
    22. غَنِيًّاغنی
    23. فَلْيَسْتَعْفِفْبچتا رہے
    24. وَمَنْاور جو
    25. كَانَہو
    26. فَقِيْرًاحاجت مند
    27. فَلْيَاْكُلْتو کھائے
    28. بِالْمَعْرُوْفِدستور کے مطابق
    29. فَاِذَاپھر جب
    30. دَفَعْتُمْحوالے کرو
    31. اِلَيْھِمْان کے
    32. اَمْوَالَھُمْان کے مال
    33. فَاَشْهِدُوْاتو گواہ کرلو
    34. عَلَيْھِمْان پر
    35. وَكَفٰىاور کافی
    36. بِاللّٰهِاللہ
    37. حَسِيْبًاحساب لینے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔9 پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔10 ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔ 11پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النِّسَآء 9 یعنی جب وہ سن بلوغ کے قریب پہنچ رہے ہوں تو دیکھتے رہو کہ ان کا عقلی نشوونما کیسا ہے اور ان میں اپنے معاملات کو خود اپنی ذمہ داری پر چلانے کی صلاحیت کس حد تک پیدا ہو رہی ہے۔ سورة النِّسَآء 10 مال ان کے حوالہ کرنے کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں ایک بلوغ، دوسرے رشد، یعنی مال کے صحیح استعمال کی اہلیت۔ پہلی شرط کے متعلق تو فقہائے امت میں اتفاق ہے۔ دوسری شرط کے بارے میں امام ابوحنیفہ ؒ کی رائے یہ ہے کہ اگر سن بلوغ کو پہنچنے پر یتیم میں رشد نہ پایا جائے تو ولی یتیم کو زیادہ سے زیادہ سات سال اور انتظام کرنا چاہیے۔ پھر خواہ رشد پایا جائے یا نہ پایا جائے، اس کا مال اس کے حوالہ کردینا چاہیے۔ اور امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی رحمہم اللہ کے رائے یہ ہے کہ مال حوالہ کیے جانے کے لیے بہر حال رشد کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ غالباً موخر الذکر حضرات کی رائے کے مطابق یہ بات زیادہ قرین صواب ہوگی کہ اس معاملہ میں قاضی شرع سے رجوع کیا جائے اور اگر قاضی پر ثابت ہوجائے کہ اس میں رشد نہیں پایا جاتا تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے خود کوئی مناسب انتظام کر دے۔ سورة النِّسَآء 11 یعنی اپنا حق الخدمت اس حد تک لے کہ ہر غیر جانبدار معقول آدمی اس کو مناسب تسلیم کرے۔ نیز یہ کہ جو کچھ بھی حق الخدمت وہ لے چوری چھپے نہ لے بلکہ علانیہ متعین کر کے لے اور اس کا حساب رکھے۔