تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 47
Tafseerوَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ﴿47﴾
- وَاِذْاور جب
- يَتَحَآجُّوْنَوہ باہم جھگڑیں گے
- فِي النَّارِآگ (جہنم) میں
- فَيَقُوْلُتو کہیں گے
- الضُّعَفٰٓؤُاکمزور
- لِلَّذِيْنَان لوگوں کو جو
- اسْتَكْبَرُوْٓاوہ بڑے بنتے تھے
- اِنَّا كُنَّابیشک ہم تھے
- لَكُمْتمہارے
- تَبَعًاتابع
- فَهَلْتو کیا
- اَنْتُمْتم
- مُّغْنُوْنَدور کردوگے
- عَنَّاہم سے
- نَصِيْبًاکچھ حصہ
- مِّنَ النَّارِآگ کا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نارِ جہنّم کی تکلیف کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لوگے؟“ 64
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُؤْمِن 64
یہ بات وہ اس امید پر نہیں کہیں گے کہ ہمارے یہ سابق پیشوا یا حاکم یا رہنما فی الواقع ہمیں عذاب سے بچا سکیں گے یا اس میں کچھ کمی کرا دیں گے۔ اس وقت تو ان پر یہ حقیقت کھل چکی ہوگی کہ یہ لوگ یہاں ہمارے کسی کام آنے والے نہیں ہیں۔ مگر وہ انہیں ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہیں گے کہ دنیا میں تو حضور بڑے طنطنے سے اپنی سرداری ہم پر چلاتے تھے، اب یہاں اس آفت سے بھی تو ہمیں بچایئے جو آپ ہی کی بدولت ہم پر آئی ہے۔