تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 41. Fussilat · Ayah 21
وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿21﴾
- وَقَالُوْااور وہ کہیں گے
- لِجُلُوْدِهِمْاپنی جلدوں سے
- لِمَکیوں
- شَهِدْتُّمْتم نے گواہی دی
- عَلَيْنَا ۭہم پر (ہمارے خلاف)
- قَالُوْٓاوہ جواب دیں گے
- اَنْطَقَنَاہمیں گویائی دی
- اللّٰهُاللہ نے
- الَّذِيْٓوہ جس نے
- اَنْطَقَگویا فرمایا
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- وَّهُوَ خَلَقَكُمْاور وہ تمہیں پیدا کیا
- اَوَّلَ مَرَّةٍپہلی بار
- وَّاِلَيْهِاور اسی کی طرف
- تُرْجَعُوْنَتم لوٹائے جاؤگے
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے”تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی”ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ 26 اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة حٰمٓ السَّجْدَة 26
اس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اپنے اعضائے جسم ہی قیامت کے روز گواہی نہیں دیں گے، بلکہ ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس کے سامنے انسان نے کسی فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ یہی بات سورة زلزال میں فرمائی گئی ہے کہ وَ اَخْرَجَتِ الْاَرضُ اَثْقَالَھَا وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَھَا یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَھَا زمین وہ سارے بوجھ نکال پھینکے گی جو اس کے اندر بھرے پڑے ہیں، اور انسان کہے گا کہ یہ اسے کیا ہوگیا ہے، اس روز زمین اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی (یعنی جو جو کچھ انسان نے اس کی پیٹھ پر کیا ہے اس کی ساری داستان بیان کر دے گی)۔ کیونکہ تیرا رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہوگا۔