تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 11
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴿11﴾
- فَاطِرُپیدا کرنے والا ہے
- السَّمٰوٰتِآسمانوں کا
- وَالْاَرْضِاور زمین کا
- جَعَلَ لَكُمْاس نے بنائے تمہارے لیے
- مِّنْسے
- اَنْفُسِكُمْتمہارے نفسوں میں (سے)
- اَزْوَاجًاجوڑے
- وَّمِنَ الْاَنْعَامِاور مویشی جانوروں میں سے
- اَزْوَاجًاجوڑے
- يَذْرَؤُكُمْپھیلاتا جارہا ہے تم کو
- فِيْهِاس میں
- لَيْسَنہیں ہے
- كَمِثْلِهٖاس کی مانند۔ اس کی مثال
- شَيْءٌکوئی چیز
- وَهُوَ السَّمِيْعُاور وہ سننے والا ہے
- الْبَصِيْرُدیکھنے والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، اور اسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس)جوڑے بنائے، اور اِس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، 17 وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے، 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 17
اصل الفاظ ہیں لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئءٌ " کوئی چیز اس کے مانند جیسی نہیں ہے " مفسرین اور اہل لغت میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس میں لفظ مثل پر کاف (حرف تشبیہ) کا اضافہ محاورے کے طور پر کیا گیا ہے جس سے مقصود محض بات میں زور پیدا کرنا ہوتا ہے، اور عرب میں یہ طرز بیان رائج ہے۔ مثلاً شاعر کہتا ہے وقتلیٰ کمثل جذوع النخل۔ اور ایک دوسرا شاعر کہتا ہے ما ان کمثلھم فی الناس من احد۔ بعض دوسرے حضرات کا قول یہ ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں کہنے کے بجائے اس کے مثل جیسا کوئی نہیں کہنے میں مبالغہ ہے، مراد یہ ہے کہ اگر بفرض محال اللہ کا کوئی مثل ہوتا تو اس جیسا بھی کوئی نہ ہوتا، کجا کہ خود اللہ جیسا کوئی ہو۔
سورة الشُّوْرٰی 18
یعنی بیک وقت ساری کائنات میں ہر ایک کی سن رہا ہے اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔