Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 36

Tafseer
  1. فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ﴿36﴾

    1. فَمَآ اُوْتِيْتُمْپس جو بھی دیے گئے تم
    2. مِّنْ شَيْءٍکوئی چیز
    3. فَمَتَاعُتو سامان ہے
    4. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی کا
    5. وَمَا عِنْدَ اللّٰهِاور جو اللہ کے پاس ہے
    6. خَيْرٌبہتر ہے
    7. وَّاَبْقٰىاور زیادہ باقی رہنے والا ہے
    8. لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے
    9. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
    10. وَعَلٰي رَبِّهِمْاور اپنے رب پر
    11. يَتَوَكَّلُوْنَوہ توکل کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سروسامان ہے، 55 اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ 56 وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے ربّ پر بھروسہ کرتے ہیں، 57
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الشُّوْرٰی 55 یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر آدمی پھول جائے۔ بڑی سے بڑی دولت بھی جو دنیا میں کسی شخص کو ملی ہے، ایک تھوڑی سی مدت ہی کے لیے ملی ہے۔ چند سال وہ اس کو برت لیتا ہے اور پھر سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے خالی ہاتھ رخصت ہوجاتا ہے۔ پھر وہ دولت بھی چاہے بہی کھاتوں میں کتنی ہی بڑی ہو، عملاً اس کا ایک قلیل سا حصہ ہی آدمی کے اپنے استعمال میں آتا ہے۔ اس مال پر اترانا کسی ایسے انسان کا کام نہیں ہے جو اپنی اور اس مال و دولت کی، اور خود اس دنیا کی حقیقت کو سمجھتا ہو۔ سورة الشُّوْرٰی 56 یعنی وہ دولت اپنی نوعیت و کیفیت کے لحاظ سے بھی اعلیٰ درجے کی ہے، اور پھر وقتی و عارضی بھی نہیں ہے بلکہ ابدی اور لازوال ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 42 : 36