Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 52

Tafseer
  1. اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ﴿52﴾

    1. اَمْبلکہ
    2. اَنَامیں
    3. خَيْرٌبہتر ہوں
    4. مِّنْ ھٰذَا الَّذِيْاس (شخص) سے جو
    5. هُوَ مَهِيْنٌوہ حقیر ہے
    6. وَّلَااور نہیں
    7. يَكَادُقریب کہ وہ
    8. يُبِيْنُوہ واضح بات کرے
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے47 اور اپنی بات  بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟48
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الزُّخْرُف 47 یعنی جس کے پاس نہ مال و دولت ہے نہ اختیار و اقتدار۔ وہی اعتراض جو کفار قریش نے رسول اللہ ﷺ پر کیا تھا۔ سورة الزُّخْرُف 48 بعض مفسرین نے یہ خیال کیا ہے کہ فرعون کا اعتراض اس لکنت پر تھا جو حضرت موسیٰ کی زبان میں بچپن سے تھی۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ سورة طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ کو جب نبوت کے منصب پر سرفراز کیا جا رہا تھا اس وقت انہوں نے حق تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دیجیے تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ لیں، اور اسی وقت ان کی دوسری درخواستوں کے ساتھ یہ درخواست بھی قبول کرلی گئی تھی (آیات 27 تا 36)۔ پھر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر حضرت موسیٰ کی جو تقریریں نقل کی گئی ہیں وہ کمال درجے کی طاقت لسانی پر دلالت کرتی ہیں۔ لہٰذا فرعون کے اعتراض کی بنا کوئی لکنت نہ تھی جو آنحضرت کی زبان میں ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص نہ معلوم کیا الجھی باتیں کرتا ہے، مابدولت کی سمجھ میں تو کبھی اس کا مدعا آیا نہیں۔