تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 21
وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ﴿21﴾
- وَاِنْ لَّمْاور اگر نہیں
- تُؤْمِنُوْا لِيْتم مانو گے میری بات
- فَاعْتَزِلُوْنِتو چھوڑ دو مجھ کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔“19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدُّخَان 19
یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت موسیٰ کی پیش کردہ ساری نشانیوں کے مقابلے میں فرعون اپنی ہٹ پر اڑا ہوا تھا مگر یہ دیکھ کر کہ ان نشانیوں سے مصر کے عوام اور خواص روز بروز متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں، اس کے ہوش اڑے جا رہے تھے۔ اس زمانے میں پہلے تو اس نے بھرے دربار میں وہ تقریر کی جو سورة زخرف، آیات 51۔ 53 میں گزر چکی ہے (ملاحظہ ہو حواشی سورة زخرف 45 تا 49) پھر زمین پاؤں تلے سے نکلتی دیکھ کر آخر کار وہ اللہ کے رسول کو قتل کردینے پر آمادہ ہوگیا۔ اس وقت آنجناب نے وہ بات کہی جو سورة مومن، آیت 27 میں گزر چکی ہے کہ اِنّی عذت بربّی ورَبکُم مِن کُل مُتکبرٍ لّا یؤمن بیوم الحساب۔ " میں نے پناہ لی اپنے رب کی ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا "۔ یہاں حضرت موسیٰ اپنی اسی بات کا حوالہ دے کر فرعون اور اس کے اعیان سلطان سے فرما رہے ہیں کہ دیکھو، میں تمہارے سارے حملوں کے مقابلہ میں اللہ رب العالمین سے پناہ مانگ چکا ہوں۔ اب تم میرا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن اگر تم خود اپنی خیر چاہتے ہو تو مجھ پر حملہ آور ہونے سے باز رہو، میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو۔ مجھ پر ہاتھ ہرگز نہ ڈالنا، ورنہ اس کا بہت برا انجام دیکھو گے۔