تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 21
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ع﴿21﴾
- اَمْیا
- حَسِبَ الَّذِيْنَخیال کیا ان لوگوں نے
- اجْتَرَحُواجنہوں نے کام کیے۔ کمائی کی
- السَّيِّاٰتِبرے
- اَنْ نَّجْعَلَهُمْکہ ہم کردیں گے ان کو
- كَالَّذِيْنَان لوگوں کی طرح
- اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
- وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے عمل کیے اچھے
- سَوَآءًبرابر ہے
- مَّحْيَاهُمْان کا جینا
- وَمَمَاتُهُمْاور ان کا مرنا
- سَآءَکتنا برا ہے
- مَا يَحْكُمُوْنَجو وہ فیصلہ کررہے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا26 وہ لوگ جنہوں نے بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 26
توحید کی دعوت کے بعد اب یہاں سے آخرت پر کلام شروع ہو رہا ہے۔
سورة الْجَاثِیَة 27
یہ آخرت کے بر حق ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو، بلکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ پائیں۔ یہ بات اگر نہ ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی تمیز ہی بےمعنی ہوجاتی ہے اور خدا پر بےانصافی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ یہ تصور ہی ان کے عیش کو منغّص کردینے والا ہے۔ لیکن خداوند عالم کی حکمت اور اس کے عدل سے یہ بات بالکل بعید ہے کہ وہ نیک و بد سے ایک جیسا معاملہ کرے اور کچھ نہ دیکھے کہ مومن صالح نے دنیا میں کس طرح زندگی بسر کی ہے اور کافر و فاسق یہاں کیا گل کھلاتا رہا ہے۔ ایک شخص عمر بھر اپنے اوپر اخلاق کی پابندیاں لگائے رہا۔ حق والوں کے حق ادا کرتا رہا۔ ناجائز فائدوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو محروم کیے رہا۔ اور حق و صداقت کی خاطر طرح طرح کے نقصانات برداشت کرتا رہا۔ دوسرے شخص نے اپنی خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کیں، نہ خدا کا حق پہچانا اور نہ بندوں کے حقوق پر دست درازی کرنے سے باز آیا۔ جس طرح سے بھی اپنے لیے فائدے اور لذتیں سمیٹ سکتا تھا، سمیٹتا چلا گیا۔ کیا خدا سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ان دونوں قسم کے آدمیوں کی زندگی کے اس فرق کو وہ نظر انداز کر دے گا ؟ مرتے دم تک جن کا جینا یکساں نہیں رہا ہے، موت کے بعد اگر ان کا انجام یکساں ہو تو خدا کی خدائی میں اس سے بڑھ کر اور کیا بےانصافی ہو سکتی ہے ؟ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حواشی 9۔ 10، النمل، حاشیہ 35، جلد سوم، الحج، حاشیہ 9، النمل، حاشیہ 86، الروم، حواشی 6 تا 8۔ جلد چہارم، تفسیر سورة ، صٓ، آیت 28۔ 30)