تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 6
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾
- تِلْكَیہ
- اٰيٰتُ اللّٰهِاللہ کی آیات ہیں
- نَتْلُوْهَاہم پڑھتے ہیں ان کو
- عَلَيْكَ بالْحَقِّآپ پر حق کے ساتھ
- فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢتو ساتھ کون سی بات کے
- بَعْدَ اللّٰهِبعد اللہ کے
- وَاور
- اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَاس کی آیات کے وہ ایمان لائیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجَاثِیَة 8
یعنی جب اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر خود اللہ ہی کے بیان کیے ہوئے یہ دلائل سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اب کیا چیز ایسی آسکتی ہے جس سے انہیں دولت ایمان نصیب ہوجائے۔ اللہ کا کلام تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعہ سے کوئی شخص یہ نعمت پاسکتا ہے۔ اور ایک ان دیکھی حقیقت کا یقین دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جو معقول دلائل ممکن ہیں وہ اس کلام پاک میں پیش کردیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی انکار ہی کرنے پر تلا ہوا ہو تو انکار کرتا رہے۔ اسکے انکار سے حقیقت نہیں بدل جائے گی۔