Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 48. Al-Fath · Ayah 11

  1. سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿11﴾

    1. سَيَقُوْلُاب کہیں گے
    2. لَكَآپ سے
    3. الْمُخَلَّفُوْنَپیچھے رہ جانے والے
    4. مِنَ الْاَعْرَابِدیہاتیوں میں سے
    5. شَغَلَتْنَآہمیں مشغول رکھا
    6. اَمْوَالُنَاہمارے مالوں
    7. وَاَهْلُوْنَااور ہمارے گھر والے
    8. فَاسْتَغْفِرْاور بخشش مانگئے
    9. لَنَا ۚہمارے لئے
    10. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    11. بِاَلْسِنَتِهِمْاپنی زبانوں سے
    12. مَّا لَيْسَجو نہیں
    13. فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭان کے دلوں میں
    14. قُلْفرمادیں
    15. فَمَنْتو کون
    16. يَّمْلِكُاختیار رکھتا ہے
    17. لَكُمْتمہارے لئے
    18. مِّنَ اللّٰهِاللہ کے سامنے
    19. شَيْئًاکسی چیز کا
    20. اِنْ اَرَادَ بِكُمْاگر وہ چاہے تمہیں
    21. ضَرًّاکوئی نقصان
    22. اَوْ اَرَادَ بِكُمْیا چاہے تمہیں
    23. نَفْعًا ۭکوئی فائدہ
    24. بَلْ كَانَ اللّٰهُبلکہ ہے اللہ
    25. بِمَااس سے جو
    26. تَعْمَلُوْنَتم کرتے ہو
    27. خَبِيْرًاخبردار
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، بدوی عربوں20 میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ ”ہمیں اپنے اموال اور بال بچّوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دُعا فرمائیں۔“ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں  ہوتیں۔21 ان سے کہنا”اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔22
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَتْح 20 یہ اطراف مدینہ کے ان لوگوں کا ذکر ہے جنہیں عمرے کی تیاری شروع کرتے وقت رسول اللہ ﷺ نے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی، مگر وہ ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود صرف اس لیے اپنے گھروں سے نہ نکلے تھے کہ انہیں اپنی جان عزیز تھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلم، مُزَینہ، جُہَینہ، غِفار، اَشْجع، دِیل وغیرہ قبائل کے لوگ تھے۔ سورة الْفَتْح 21 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہارے مدینہ پہنچنے کے بعد یہ لوگ اپنے نہ نکلنے کے لیے جو عذر اب پیش کریں گے وہ محض ایک جھوٹا بہانہ ہوگا، ورنہ ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ دراصل کیوں بیٹھ رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان کا اللہ کے رسول سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنا محض زبانی جمع خرچ ہوگا۔ اصل میں وہ نہ اپنی اس حرکت پر نادم ہیں، نہ انہیں یہ احساس ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دے کر کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اور نہ ان کے دل میں مغفرت کی کوئی طلب ہے۔ اپنے نزدیک تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اس خطرناک سفر پر نہ جا کر بڑی عقلمندی کی ہے۔ اگر انہیں واقعی اللہ اور اس کی مغفرت کی کوئی پروا ہوتی تو وہ گھر بیٹھے ہی کیوں رہتے۔ سورة الْفَتْح 22 یعنی اللہ کا فیصلہ تو اس علم کی بنا پر ہوگا جو وہ تمہارے عمل کی حقیقت کے متعلق رکھتا ہے۔ اگر تمہارا عمل سزا کا مستحق ہو اور میں تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دوں تو میری یہ دعا تمہیں اللہ کی سزا سے نہ بچا دے گی۔ اور اگر تمہارا عمل سزا کا مستحق نہ ہو اور میں تمہارے حق میں استغفار نہ کروں تو میرا استغفار نہ کرنا تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے گا۔ اختیار میرا نہیں بلکہ اللہ کا ہے، اور اس کو کسی کی زبانی باتیں دھوکا نہیں دے سکتیں۔ اس لیے تمہارے ظاہری قول کو میں سچ مان بھی لوں اور اس بنا پر تمہارے حق میں دعائے مغفرت بھی کر دوں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔