Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 48. Al-Fath · Ayah 18

  1. لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ﴿18﴾

    1. لَقَدْتحقیق
    2. رَضِيَ اللّٰهُراضی ہوا اللہ
    3. عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں سے
    4. اِذْجب
    5. يُبَايِعُوْنَكَوہ آپ سے بیعت کررہے تھے
    6. تَحْتَ الشَّجَرَةِدرخت کے نیچے
    7. فَعَلِمَسو اس نے معلوم کرلیا
    8. مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْجو ان کے دلوں میں
    9. فَاَنْزَلَتو اس نے اتاری
    10. السَّكِيْنَةَسکینہ (تسلی)
    11. عَلَيْهِمْان پر
    12. وَاَثَابَهُمْاور بدلہ میں دی انہیں
    13. فَتْحًاایک فتح
    14. قَرِيْبًاقریب
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سےبیعت کر رہے تھے۔32 ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی،33 ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَتْح 32 یہاں پھر اسی بیعت کا ذکر ہے جو حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجعمین سے لی گئی تھی۔ اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خوش خبری سنائی ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہوگیا جنہوں نے اس خطرناک موقع پر جان کی بازی لگا دینے میں ذرہ برابر تامل نہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سرفروشی کی بیعت کر کے اپنے صادق الایمان ہونے کا صریح ثبوت پیش کردیا۔ وقت وہ تھا کہ مسلمان صرف ایک ایک تلوار لیے ہوئے آئے تھے۔ صرف چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ جنگی لباس میں بھی نہ تھے بلکہ احرام کی چادریں باندھے ہوئے تھے۔ اپنے جنگی مستقر (مدینہ) سے ڈھائی سو میل دور تھے، اور دشمن کا گڑھ، جہاں سے وہ ہر قسم کی مدد لا سکتا تھا، صرف 13 میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ اگر اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے لیے ان لوگوں کے اندر خلوص کی کچھ بھی کمی ہوتی تو وہ اس انتہائی خطرناک موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ساتھ چھوڑ جاتے اور اسلام کی بازی ہمیشہ کے لیے ہار جاتے۔ ان کے اپنے اخلاص کے سوا کوئی خارجی دباؤ ایسا نہ تھا جس کی بنا پر وہ اس بیعت کے لیے مجبور ہوتے۔ ان کا اس وقت خدا کے دین کے لیے مرنے مارنے پر آمادہ ہوجانا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ اپنے ایمان میں صادق و مخلص اور خدا اور رسول ﷺ کی وفاداری میں درجہ کمال پر فائز تھے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سند خوشنودی عطا فرمائی۔ اور اللہ کی سند خوشنودی عطا ہوجانے کے بعد اگر کوئی شخص ان سے ناراض ہو، یا ان پر زبان طعن دراز کرے تو اس کا معاوضہ ان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے۔ اس پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس وقت اللہ نے ان حضرات کو یہ خوشنودی کی سند عطا کی تھی اس وقت تو یہ مخلص تھے مگر بعد میں یہ خدا اور رسول کے بےوفا ہوگئے، وہ شاید اللہ سے یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ اسے یہ آیت نازل کرتے وقت ان کے مستقبل کی خبر نہ تھی، اس لیے محض اس وقت کی حالت دیکھ کر اس نے یہ پروانہ انہیں عطا کردیا، اور غالباً اسی بیخبر ی کی بنا پر اسے اپنی کتاب پاک میں بھی درج فرما دیا تاکہ بعد میں بھی، جب یہ لوگ بےوفا ہوجائیں، ان کے بارے میں دنیا یہ آیت پڑھتی رہے اور اس خدا کے علم غیب کی داد دیتی رہے جس نے معاذاللہ ان بیوفاؤں کو یہ پروانہ خوشنودی عطا کیا تھا۔ جس درخت کے نیچے یہ بیعت ہوئی تھی اس کے متعلق حضرت نافع مولی ابن عمر کی یہ روایت عام طور پر مشہور ہوگئی ہے کہ لوگ اس کے پاس جا جا کر نمازیں پڑھنے لگے تھے، حضرت عمر ؓ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے لوگوں کو ڈانٹا اور اس درخت کو کٹوا دیا (طبقات ابن سعد، ج 2، ص 100)۔ لیکن متعدد روایات اس کے خلاف بھی ہیں۔ ایک روایت خود حضرت نافع ہی سے طبقات ابن سعد میں یہ منقول ہوئی ہے کہ بیعت رضوان کے کئی سال بعد صحابہ کرام نے اس درخت کو تلاش کیا مگر اسے پہچان نہ سکے اور اس امر میں اختلاف ہوگیا کہ وہ درخت کونسا تھا (ص 105)۔ دوسری روایت بخاری و مسلم اور طبقات ابن سعد میں حضرت سعید بن المسیب کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ دوسرے سال جب ہم لوگ عمرۃ القضاء کے لیے گئے تو ہم اس درخت کو بھول چکے تھے، تلاش کرنے پر بھی ہم اسے نہ پاسکے۔ تیسری روایت ابن جریر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ اپنے عہد خلافت میں جب حدیبیہ کے مقام سے گزرے تو انہوں نے دریافت کیا کہ وہ درخت کہاں ہے جس کے نیچے بیعت ہوئی تھی۔ کسی نے کہا فلاں درخت ہے اور کسی نے کہا فلاں۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا، چھوڑو، اس تکلف کی کیا حاجت ہے۔ سورة الْفَتْح 33 یہاں سکنیت سے مراد دل کی وہ کیفیت ہے جس کی بنا پر ایک شخص کسی مقصد عظیم کے لیے ٹھنڈے دل سے پورے سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے آپ کو خطرے کے منہ میں جھونک دیتا ہے اور کسی خوف یا گھبراہٹ کے بغیر فیصلہ کرلیتا ہے کہ یہ کام بہرحال کرنے کا ہے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔