تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 48. Al-Fath · Ayah 3
وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا﴿3﴾
- وَّيَنْصُرَكَاور آپ کو نصرت دے
- اللّٰهُاللہ
- نَصْرًانصرت
- عَزِيْزًازبردست
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور تم کو زبردست نصرت بخشے۔5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْفَتْح 5
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " تم کو بےمثل نصرت بخشے "۔ اصل میں لفظ نصراً عزیزاً استعمال ہوا ہے۔ عزیز کے معنی زبردست کے بھی ہیں اور بےنظیر، بےمثل اور نادر کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس فقرے کا مطلب یہ ہے کہ اس صلح کے ذریعہ سے اللہ نے آپ کی ایسی مدد کی ہے جس سے آپ کے دشمن عاجز ہوجائیں گے۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ شاذ و نادر ہی کبھی کسی کی مدد کا ایسا عجیب طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ بظاہر جو چیز لوگوں کو محض ایک صلح نامہ اور وہ بھی دب کر کیا ہوا صلح نامہ نظر آتی ہے، وہی ایک فیصلہ کن فتح بن جانے والی ہے۔