Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 15

  1. اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ع﴿15﴾

    1. اَفَعَيِيْنَاتو کیا ہم تھک گئے
    2. بِالْخَلْقِپیدا کرنے سے
    3. الْاَوَّلِ ۭپہلی بار
    4. بَلْبلکہ
    5. هُمْوہ
    6. فِيْ لَبْسٍشک میں
    7. مِّنْسے
    8. خَلْقٍ جَدِيْدٍپیدا کرنا ازسر نو
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 18 یہ آخرت کے حق میں عقلی استدلال ہے۔ جو شخص خدا کا منکر نہ ہو اور حماقت کی اس حد تک نہ پہنچ گیا ہو کہ اس منظم کائنات اور اس کے اندر انسان کی پیدائش کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے لگے، اس کے لیے یہ مانے بغیر چارہ نہیں ہے کہ خدا ہی نے ہمیں اور اس پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اب یہ امر واقعہ کہ ہم اس دنیا میں زندہ موجود ہیں اور زمین و آسمان کا یہ سارا کارخانہ ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، آپ ہی اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ خدا ہمیں اور اس کائنات کو پیدا کرنے سے عاجز نہ تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ قیامت برپا کرنے کے بعد وہی خدا ایک دوسرا نظام عالم نہ بنا سکے گا، اور موت کے بعد وہ ہمیں دوبارہ پیدا نہ کرسکے گا، تو وہ محض ایک خلاف عقل بات کہتا ہے۔ خدا عاجز ہوتا تو پہلے ہی پیدا نہ کرسکتا۔ جب وہ پہلے پیدا کرچکا ہے اور اسی تخلیق کی بدولت ہم خود وجود میں آئے بیٹھے ہیں، تو یہ فرض کرلینے کے لیے آخر کیا معقول بنیاد ہو سکتی ہے کہ اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کو توڑ کر پھر بنا دینے سے وہ عاجز ہوجائے گا ؟