Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 2

  1. بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ﴿2﴾

    1. بَلْبلکہ
    2. عَجِبُوْٓاانہوں نے تعجب کیا
    3. اَنْ جَآءَهُمْکہ ان کے پاس آیا
    4. مُّنْذِرٌایک ڈر سنانے والا
    5. مِّنْهُمْان میں سے
    6. فَقَالَتو کہا
    7. الْكٰفِرُوْنَکافروں
    8. ھٰذَا شَيْءٌیہ بات
    9. عَجِيْبٌعجیب
Translation · Tafheem-ul-Quran
بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔2 پھر  منکرین کہنے لگے”یہ تو عجیب بات ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 2 یہ فقرہ بلاغت کا بہترین نمونہ ہے جس میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر الفاظ میں سمو دیا گیا ہے۔ قرآن کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا۔ اس کا ذکر کرنے کے بجائے بیچ میں ایک لطیف خلا چھوڑ کر آگے کی بات " بلکہ " سے شروع کردی گئی ہے۔ آدمی ذرا غور کرے اور اس پس منظر کو بھی نگاہ میں رکھے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ قسم اور بلکہ کے درمیان جو خلا چھوڑ دیا گیا ہے اس کا مضمون کیا ہے۔ اس میں دراصل قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ " اہل مکہ نے محمد ﷺ کی رسالت کو ماننے سے کسی معقول بنیاد پر انکار نہیں کیا ہے، بلکہ اس سراسر غیر معقول بنیاد پر کیا ہے کہ ان کی اپنی جنس کے ایک بشر، اور ان کی اپنی ہی قوم کے ایک فرد کا خدا اپنے بندوں کی بھلائی اور برائی سے بےپروا ہو کر انہیں خبردار کرنے کا کوئی انتظام نہ کرتا، یا انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے کسی غیر انسان کو بھیجتا، یا عربوں کو خبردار کرنے کے لیے کسی چینی کو بھیج دیتا۔ اس لیے انکار کی یہ بنیاد تو قطعی نامعقول ہے اور ایک صاحب عقل سلیم یقیناً یہ ماننے پر مجبور ہے کہ خدا کی طرف سے بندوں کو خبردار کرنے کا انتظام ضرور ہونا چاہیے اور اسی شکل میں ہونا چاہیے یہ خبردار کرنے والا خود انہی لوگوں میں سے کوئی شخص ہو جن کے درمیان وہ بھیجا گیا ہو "۔ اب رہ جاتا ہے یہ سوال کہ آیا محمد ﷺ ہی وہ شخص ہیں جنہیں خدا نے اس کام کے لیے بھیجا ہے، تو اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی اور شہادت کی حاجت نہیں، یہ عظیم و کریم قرآن، جسے وہ پیش کر رہے ہیں، اس بات کا ثبوت دینے کے لیے بالکل کافی ہے۔ اس تشریح سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں قرآن کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر کفار کا تعجب بےجا ہے۔ اور قرآن کے " مجید " ہونے کو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔