تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 32
هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ﴿32﴾
- ھٰذَایہ
- مَاجو
- تُوْعَدُوْنَتم سے وعدہ کیا جاتا تھا
- لِكُلِّ اَوَّابٍہر رجوع کرنے والے کیلئے
- حَفِيْظٍنگہداشت کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
ارشاد ہوگا”یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا 40اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا،41
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 40
اصل میں لفظ اَوّاب استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے نافرمانی اور خواہشات نفس کی پیروی کا راستہ چھوڑ کر طاعت اور اللہ کی رضا جوئی کا راستہ اختیار کرلیا ہو، جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ کو ناپسند ہے، اور ہر اس چیز کو اختیار کرلے جو اللہ کو پسند ہے، جو راہ بندگی سے ذرا قدم ہٹتے ہی گھبرا اٹھے اور توبہ کر کے بندگی کی راہ پر پلٹ آئے، جو کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والا اور اپنے تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔
سورة قٓ 41
اصل میں لفظ " حفیظ " استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں " حفاظت کرنے والا "۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ کے حدود اور اسے کے فرائض اور اس کی حرمتوں اور اس کی سپرد کی ہوئی امانتوں کی حفاظت کرے، جو ان حقوق کی نگہداشت کرے جو اللہ کی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں، جو اس عہد و پیمان کی نگہداشت کرے جو ایمان لا کر اس نے اپنے رب سے کیا ہے، جو اپنے اوقات اور اپنی قوتوں اور محنتوں اور کوششوں کی پاسبانی کرے کہ ان میں سے کوئی چیز غلط کاموں میں ضائع نہ ہو، جو توبہ کر کے اس کی حفاظت کرے اور اسے پھر نہ ٹوٹنے دے، جو ہر وقت اپنا جائزہ لے کر دیکھتا رہے کہ کہیں میں اپنے قول یا فعل میں اپنے قول یا فعل میں اپنے رب کی نافرمانی تو نہیں کر رہا ہوں۔