Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 50. Qaaf · Ayah 45

  1. نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ع﴿45﴾

    1. نَحْنُہم
    2. اَعْلَمُخوب جانتے ہیں
    3. بِمَا يَقُوْلُوْنَوہ جو کہتے ہیں
    4. وَمَآاور نہیں
    5. اَنْتَآپ
    6. عَلَيْهِمْان پر
    7. بِجَبَّارٍ ۣجبر کرنے والے
    8. فَذَكِّرْپس نصیحت کریں
    9. بِالْقُرْاٰنِقرآن سے
    10. مَنْجو
    11. يَّخَافُوہ ڈرتا ہے
    12. وَعِيْدِمیری وعید
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہےہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں،55 اور تمہارا کام ان سے جبراًبات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کےذریعہ  سے ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔56
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة قٓ 55 اس فقرے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے اور کفار کے لیے دھمکی بھی۔ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں ان کی قطعاً پروانہ کرو، ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ان سے نمٹنا ہمارا کام ہے۔ کفار کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر جو فقرے تم کس رہے ہو وہ تمہیں بہت مہنگے پڑیں گے۔ ہم خود ایک ایک بات سن رہے ہیں اور اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ سورة قٓ 56 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی ﷺ جبراً لوگوں سے اپنی بات منوانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا۔ بلکہ در اصل یہ بات حضور ﷺ کو مخاطب کر کے کفار کو سنائی جا رہی ہے۔ گویا ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمارا نبی تم پر جبار بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔ اس کا کام زبردستی تمہیں مومن بنانا نہیں کہ تم نہ ماننا چاہو اور وہ جبراً تم سے منوائے۔ اس کی ذمہ داری تو بس اتنی ہے کہ جو متنبہ کرنے سے ہوش میں آجائے اسے قرآن سنا کر حقیقت سمجھا دے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو نبی تم سے نہیں نمٹے گا بلکہ ہم تم سے نمٹیں گے۔