Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 52. At-Tur · Ayah 33

  1. اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿33﴾

    1. اَمْ يَقُوْلُوْنَیا وہ کہتے ہیں
    2. تَقَوَّلَهٗ ۚاس نے گھڑ لیا اس کو
    3. بَلْ لَّابلکہ نہیں
    4. يُؤْمِنُوْنَوہ ایمان لاتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ 26
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الطُّوْر 26 دوسرے الفاظ میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے جو لوگ قرآن کو محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کردہ کلام کہتے ہیں خود ان کا دل یہ جانتا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں ہو سکتا، اور دوسرے وہ لوگ بھی جو اہل زبان ہیں نہ صرف یہ کہ اسے سن کر صاف محسوس کرلیتے ہیں کہ یہ انسانی کلام سے بہت اعلیٰ وارفع ہے بلکہ ان میں سے جو شخص بھی محمد ﷺ سے واقف ہے وہ کبھی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ واقعی آپ ہی کا کلام ہے۔ پس صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ قرآن کو آپ کی تصنیف قرار دینے والے دراصل ایمان نہیں لانا چاہتے اسلیے وہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے گھڑ رہے ہیں جن میں سے ایک بہانہ یہ بھی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ 21۔ جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 12۔ القصص، حاشیہ 64۔ العنکبوت، حاشیہ 88۔ 89۔ جلد چہارم، السجدہ حاشیہ 1 تا 4۔ حٰم السجدہ، حاشیہ۔ 54۔ الاحقاف، حاشیہ 8 تا 10)۔