تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 52. At-Tur · Ayah 37
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ﴿37﴾
- اَمْ عِنْدَهُمْیا ان کے پاس
- خَزَآئِنُخزانے ہیں
- رَبِّكَتیرے رب کے
- اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَیا وہ محفاظ ہیں۔ داروغہ ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں؟ یا ان پرانہی کا حکم چلتا ہے؟ 29
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الطُّوْر 29
یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ ﷺ ہی کیوں رسول بنائے گئے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنائے اور کس کو نہ بنائے ؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے۔