Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 53. An-Najm · Ayah 34

Tafseer
  1. وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى﴿34﴾

    1. وَاَعْطٰىاور اس نے دیا
    2. قَلِيْلًاتھوڑا سا
    3. وَّاَكْدٰىاور بند کردیا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور تھوڑا سا دے کر رُک گیا۔ 34
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّجْم 34 اشارہ ہے ولید بن مغیرہ کی طرف جو قریش کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا۔ ابن جریر طبری کی روایت ہے کہ یہ شخص پہلے رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔ مگر جب اس کے ایک مشرک دوست کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہونے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ تم دین آبائی کو نہ چھوڑو، اگر تمہیں عذاب آخرت کا خطرہ ہے تو مجھے اتنی رقم دے دو ، میں ذمہ لیتا ہوں کہ تمہارے بدلے وہاں کا عذاب میں بھکت لوں گا۔ ولید نے یہ بات مان لی اور خدا کی راہ پر آتے آتے اس سے پھر گیا، مگر جو رقم اس نے اپنے مشرک دوست کو دینی طے کی تھی وہ بھی بس تھوڑی سی دی اور باقی روک لی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود کفار مکہ کو یہ بتانا تھا کہ آخرت سے بےفکری اور دین کی حقیقت سے بیخبر ی نے ان کو کیسی جہالتوں اور حماقتوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔