Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 17

  1. وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿17﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
    2. يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَآسان کردیا ہم نے قرآن کو
    3. لِلذِّكْرِنصیحت کے لیے
    4. فَهَلْتو کیا
    5. مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت پکڑنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نےاِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، 15 پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 15 بعض لوگوں نے یَسَّرْنَا الْقُراٰنَ کے الفاظ سے یہ غلط مطلب نکال لیا ہے کہ قرآن ایک آسان کتاب ہے، اسے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں، حتیٰ کہ عربی زبان تک سے واقفیت کے بغیر جو شخص چاہے اس کی تفسیر کرسکتا ہے اور حدیث و فقہ سے بےنیاز ہو کر اس کی آیات سے جو احکام چاہے مستنبط کرسکتا ہے۔ حالانکہ جس سیاق وسباق میں یہ الفاظ آئے ہیں اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو ہیں وہ عبرتناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتارہا ہے۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا یہ ذریعہ زیادہ آسان ہے۔ پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور عذاب ہی دیکھنے پر اصرار کیے جاتے ہو ؟ یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اپنے نبی کے ذریعہ سے یہ کتاب بھیج کر وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ جن راہوں پر تم لوگ جا رہے ہو وہ کس تباہی کی طرف جاتی ہیں اور تمہاری خیر کس راہ میں ہے۔ نصیحت کا یہ طریقہ اسی لیے تو اختیار کیا گیا ہے کہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے تمہیں اس سے بچا لیا جائے۔ اب اس سے زیادہ نادان اور کون ہوگا جو سیدھی طرح سمجھانے سے نہ مانے اور گڑھے میں گر کر ہی یہ تسلیم کرے کہ واقعی یہ گڑھا تھا۔