تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 55. Ar-Rahmaan · Ayah 18
Tafseerفَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴿18﴾
- فَبِاَيِّ اٰلَآءِتو ساتھ کون سی نعمتوں کے
- رَبِّكُمَااپنے رب کی تم دونوں
- تُكَذِّبٰنِتم دونوں جھٹلاؤ گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے جِنّ و اِنس تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں 18 کو جھٹلاؤ گے؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّحْمٰن 18
یہاں بھی اگرچہ موقع و محل کے لحاظ سے آلاء کا مفہوم " قدرت " زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے، مگر ساتھ ہی " نعمت " اور صفات حمیدہ " کا پہلو بھی اس میں موجود ہے۔ یہ بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع و غروب کا یہ قاعدہ مقرر کیا، کیونکہ اس کی بدولت فصلوں اور موسموں کے وہ تغیرات باقاعدگی سے رونما ہوتے ہیں جن سے انسان و حیوان اور نباتات سب کے بیشمار مصالح وابستہ ہیں۔ اسی طرح یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت اور حکمت ہی تو ہے کہ اس نے جن مخلوقات کو زمین پر پیدا کیا تھا ان کی ضرورتوں کو ملحوظ رکھ کر اپنی قدرت سے یہ انتظامات کردیے۔