تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 15
فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿15﴾
- فَالْيَوْمَتو آج
- لَا يُؤْخَذُنہ لیا جائے گا
- مِنْكُمْتم سے
- فِدْيَةٌکوئی فدیہ
- وَّلَا مِنَ الَّذِيْنَاور نہ ان لوگوں سے
- كَفَرُوْا ۭجنہوں نے کفر کیا
- مَاْوٰىكُمُ النَّارُ ۭٹھکانہ تمہارا آگ ہے
- هِىَوہ
- مَوْلٰىكُمْ ۭدوست ہے تمہاری
- وَبِئْسَ الْمَصِيْرُاور بدترین انجام۔ ٹھکانہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
لہذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگو ں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا۔ 26 تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے 27 اور یہ بدترین انجام ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَدِیْد 26
یہاں اس امر کی تصریح ہے کہ آخرت میں منافق کا انجام وہی ہوگا جو کافر کا ہوگا۔
سورة الْحَدِیْد 27
اصل الفاظ ہیں ھِیَ مَوْلَاکُمْ ، " دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے " اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہی تمہارے لیے موزوں جگہ ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو تو تم نے اپنا مولیٰ بنایا نہیں کہ وہ تمہاری خبر گیری کرے، اب تو دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے، وہی تمہاری خوب خبر گیری کرے گی۔