Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 1

  1. قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿1﴾

    1. قَدْ سَمِعَیقیناً سن لی
    2. اللّٰهُاللہ نے
    3. قَوْلَبات
    4. الَّتِيْوہ عورت جو
    5. تُجَادِلُكَآپ سے بحث کرتی تھی
    6. فِيْ زَوْجِهَااپنے خاند کے بارے میں
    7. وَتَشْتَكِيْٓاور شکایت کرتی تھی
    8. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. يَسْمَعُسنتا تھا
    11. تَحَاوُرَكُمَا ۭتم دونوں کی گفتگو
    12. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    13. سَمِيْعٌۢسننے والا
    14. بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ نے سُن لی 1 اُس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سُن رہا ہے، 2 وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 1 یہاں سننے سے محض سن لینا نہیں ہے بلکہ فریاد رسی کرنا ہے، جیسے ہم اردو زبان میں کہتے ہیں اللہ نے دعا سن لی اور اس سے مراد دعا قبول کرلینا ہوتا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 2 عام طور پر مترجمین نے اس مقام پر مجادلہ کر رہی تھی، فریاد کر رہی تھی، اور اللہ سن رہا تھا ترجمہ کیا ہے جس سے پڑھنے والے کا ذہن یہ مفہوم اخذ کرتا ہے کہ وہ خاتون اپنی شکایت سنا کر چلی گئی ہوں گی اور بعد میں کسی وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی ہوگی، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عورت کی بات ہم نے سن لی جو تم سے تکرار اور ہم سے فریاد کر رہی تھی، اور ہم اس وقت تم دونوں کی بات سن رہے تھے۔ لیکن اس واقعہ کے متعلق جو روایات احادیث میں آئی ہیں ان میں سے اکثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس وقت وہ خاتون اپنے شوہر کے ظہار کا قصہ سنا سنا کر بار بار حضور ﷺ سے عرض کر رہی تھیں کہ اگر ہم دونوں کی جدائی ہوگئی تو میں مصیبت میں پڑجاؤں گی اور میرے بچے تباہ ہوجائیں گے، عین اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس بنا پر ہم نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ترجمہ حال کے صیغوں میں کیا جائے۔ یہ خاتون جن کے معاملہ میں آیات نازل ہوئی ہیں قبیلہ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں، اور ان کے شوہر اَوْس بن صامت انصاری، قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ ان کے ظہار کا قصہ آگے چل کر ہم تفصیل کے ساتھ نقل کریں گے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان صحابیہ کی فریاد کا بار گاہ الٰہی میں مسموع ہونا اور فوراً ہی وہاں سے ان کی فریاد رسی کے لیے فرمان مبارک نازل ہوجانا ایک ایسا واقعہ تھا جس کی وجہ سے صحابہ کرام میں ان کو ایک خاص قدر و منزلت حاصل ہوگئی تھی۔ ابن ابی حاتم و بیہقی نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر کچھ اصحاب کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک عورت ملی اور اس نے ان کو روکا۔ آپ فوراً رک گئے۔ سر جھکا کر دیر تک اس کی بات سنتے رہے اور جب تک اس نے بات ختم نہ کرلی آپ کھڑے رہے۔ ساتھیوں میں سے ایک صاحب نے عرض کیا امیر المومنین، آپ نے قریش کے سرداروں کو اس بڑھیا کے لیے اتنی دیر روکے رکھا۔ فرمایا جانتے بھی ہو یہ کون ہے ؟ یہ خولہ بنت ثعلبہ ہے۔ یہ وہ عورت ہے جس کی شکایت سات آسمانوں پر سنی گئی۔ خدا کی قسم، اگر یہ رات تک مجھے کھڑا رکھتی تو میں کھڑا رہتا، بس نمازوں کے اوقات پر اس سے معذرت کردیتا۔ ابن عبدالبر نے استعیاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے کہ یہ خاتون راستہ میں حضرت عمر کو ملیں تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ یہ سلام کا جواب دینے کے بعد کہنے لگیں " اوہو، اے عمر ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازار عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہلاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔ پھر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ تم عمر کہلانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا تم امیر المومنین کہے جانے لگے۔ ذرا رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے، اور جو موت سے ڈرتا ہے اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے بچانا چاہتا ہے۔ " اس پر جارود عَبْدِی، جو حضرت عمر کے ساتھ تھے، بولے، اے عورت، تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ حضرت عمر نے فرمایا، انہیں کہنے دو ، جانتے بھی ہو یہ کون ہیں ؟ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی، عمر کو تو بدرجۂ اولیٰ سننی چاہیے۔ امام بخاری نے بھی اپنی تاریخ میں اختصار کے ساتھ اس سے ملتا جلتا قصہ نقل کیا ہے۔