تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 108
Tafseerوَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿108﴾
- وَاور
- لَا تَسُبُّواتم نہ گالی دو
- الَّذِيْنَوہ جنہیں
- يَدْعُوْنَوہ پکارتے ہیں
- مِنْسے
- دُوْنِ اللّٰهِاللہ کے سوا
- فَيَسُبُّواپس وہ برا کہیں گے
- اللّٰهَاللہ
- عَدْوًۢاگستاخی
- بِغَيْرِ عِلْمٍبےسمجھے بوجھے
- کَذٰلِكَاسی طرح
- زَيَّنَّا لِكُلِّہم نے بھلا دکھایا ہر ایک
- اُمَّةٍفرقہ
- عَمَلَهُمْان کا عمل
- ثُمَّپھر
- اِلٰىطرف
- رَبِّهِمْاپنا رب
- مَّرْجِعُهُمْان کو لوٹنا
- فَيُنَبِّئُهُمْوہ پھر ان کو جتا دے گا
- بِمَاجو وہ
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَکرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور (اے ایمان لانے والو !) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ 72 ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا ہے،73 پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 73
یہاں پھر اس حقیقت کو ملحوظ رکھنا چاہیے جس کی طرف اس سے پہلے بھی ہم اپنے حواشی میں اشارہ کرچکے ہیں کہ جو امور قوانین فطرت کے تحت رونما ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنا فعل قرار دیتا ہے، کیونکہ وہی ان قوانین کا مقرر کرنے والا ہے اور جو کچھ ان قوانین کے تحت رونما ہوتا ہے وہ اسی کے امر سے رونما ہوتا ہے۔ جس بات کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ ہم نے ایسا کیا ہے اسی کو اگر ہم انسان بیان کریں تو اس طرح کہیں گے کہ فطرۃً ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔