Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 148

  1. سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ﴿148﴾

    1. سَيَقُوْلُجلد کہیں گے
    2. الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْاجن لوگوں نے شرک کیا (مشرک)
    3. لَوْاگر
    4. شَآءَ اللّٰهُچاہتا اللہ
    5. مَآ اَشْرَكْنَاہم شرک نہ کرتے
    6. وَلَآاور نہ
    7. اٰبَآؤُنَاہمارے باپ دادا
    8. وَلَااور نہ
    9. حَرَّمْنَاہم حرام ٹھہراتے
    10. مِنْ شَيْءٍکوئی چیز
    11. كَذٰلِكَاسی طرح
    12. كَذَّبَجھٹلایا
    13. الَّذِيْنَجو لوگ
    14. مِنْ قَبْلِهِمْان سے پہلے
    15. حَتّٰيیہاں تک کہ
    16. ذَاقُوْاانہوں نے چکھا
    17. بَاْسَنَاہمارا عذاب
    18. قُلْفرمادیجئے
    19. هَلْکیا
    20. عِنْدَكُمْتمہارے پاس
    21. مِّنْ عِلْمٍکوئی علم (یقینی بات)
    22. فَتُخْرِجُوْهُ لَنَاتو اس کو نکالو (ظاہر کرو) ہمارے لیے
    23. اِنْنہیں
    24. تَتَّبِعُوْنَتم پیچھے چلتے ہو
    25. اِلَّاإگر (صرف)
    26. الظَّنَّگمان
    27. وَاِنْاور گر (نہیں)
    28. اَنْتُمْتم
    29. اِلَّاصرف
    30. تَخْرُصُوْنَاٹکل چلاتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے“۔124 ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ”کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 124 یعنی وہ اپنے جرم اور اپنی غلط کاری کے لیے وہی پرانا عذر پیش کریں گے جو ہمیشہ سے مجرم اور غلط کار لوگ پیش کرتے رہے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے حق میں اللہ کی مشیت یہی ہے کہ ہم شرک کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حرام ٹھہرا رکھا ہے انہیں حرام ٹھیرائیں۔ ورنہ اگر خدا نہ چاہتا کہ ہم ایسا کریں تو کیوں کر ممکن تھا کہ یہ افعال ہم سے صادر ہوتے۔ پس چونکہ ہم اللہ کی مشیت کے مطابق یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس لیے درست کر رہے ہیں، اس کا الزام اگر ہے تو ہم پر نہیں، اللہ پر ہے۔ اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں ایسا ہی کرنے پر مجبور ہیں کہ اس کے سوا کچھ اور کرنا ہماری قدرت سے باہر ہے۔