تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 152
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ﴿152﴾
- وَلَا تَقْرَبُوْااور قریب نہ جاؤ
- مَالَمال
- الْيَتِيْمِیتیم
- اِلَّامگر
- بِالَّتِيْایسے جو
- هِىَوہ
- اَحْسَنُبہترین
- حَتّٰيیہاں تک کہ
- يَبْلُغَپہنچ جائے
- اَشُدَّهٗاپنی جوانی
- وَاَوْفُوااور پورا کرو
- الْكَيْلَماپ
- وَالْمِيْزَانَاور تول
- بِالْقِسْطِانصاف کے ساتھ
- لَا نُكَلِّفُہم تکلیف نہیں دیتے
- نَفْسًاکسی کو
- اِلَّامگر
- وُسْعَهَااس کی وسعت (مقدور)
- وَاِذَااور جب
- قُلْتُمْتم بات کرو
- فَاعْدِلُوْاتو انصاف کرو
- وَلَوْ كَانَخواہ ہو
- ذَا قُرْبٰيرشتہ دار
- وَاور
- بِعَهْدِعہد
- اللّٰهِاللہ
- اَوْفُوْاپورا کرو
- ذٰلِكُمْیہ
- وَصّٰىكُمْاس نے تمہیں حکم دیا
- بِهٖاس کا
- لَعَلَّكُمْتا کہ تم
- تَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑو
Translation · Tafheem-ul-Quran
(6) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو132 یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے،(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،133(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، (۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔134ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 132
یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بےغرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔
سورة الْاَنْعَام 133
یہ اگرچہ شریعت الہٰی کا ایک مستقل اصول ہے، لیکن یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی حد تک ناپ تول اور لین دین کے معاملات میں راستی و انصاف سے کام لینے کی کوشش کرے وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے گا۔ بھول چوک یا نادانستہ کمی و بیشی ہوجانے پر اس سے باز پرس نہ ہوگی۔
سورة الْاَنْعَام 134
”اللہ کے عہد“ سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے خدا سے کرے، اور وہ بھی جو خدا کا نام لے کر بندوں سے کرے، اور وہ بھی جو انسان اور خدا، اور انسان اور انسان کے درمیان اسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص خدا کی زمین میں ایک انسانی سوسائیٹی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔