Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 154

  1. ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿154﴾

    1. ثُمَّ اٰتَيْنَاپھر ہم نے دی
    2. مُوْسَىموسیٰ
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. تَمَامًانعمت پوری کرنے کو
    5. عَلَيپر
    6. الَّذِيْٓجو
    7. اَحْسَنَنیکو کار ہے
    8. وَتَفْصِيْلًااور تفصیل
    9. لِّكُلِّ شَيْءٍہر چیز کی
    10. وَّهُدًىاور ہدایت
    11. وَّرَحْمَةًاور رحمت
    12. لَّعَلَّهُمْتاکہ وہ
    13. بِلِقَآءِملاقات پر
    14. رَبِّهِمْاپنا رب
    15. يُؤْمِنُوْنَایمان لائیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی (اور اس لیے بھی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔136
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 136 رب کی ملاقات پر ایمان لانے سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا اور ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنا ہے۔ یہاں اس ارشاد کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ خود بنی اسرسائیل میں اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ذمہ داری کا احساس بیدار ہوجائے۔ دوسرے یہ کہ عام لوگ اس اعلیٰ درجہ کے نظام زندگی کا مطالعہ کر کے اور نیکو کار انسانوں میں اس نعمت ہدایت اور اس رحمت کے اثرات دیکھ کر یہ محسوس کرلیں کہ انکار آخرت کی غیر ذمہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں وہ زندگی ہر اعتبار سے بہتر ہے جو اقرار آخرت کی بنیاد پر ذمہ دارانہ طریقہ سے بسر کی جاتی ہے، اور اس طرح یہ مشاہدہ و مطالعہ انہیں انکار سے ایمان کی طرف کھینچ لائے۔