تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 5
فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿5﴾
- فَقَدْ كَذَّبُوْاپس بیشک انہوں نے جھٹلایا
- بِالْحَقِّحق کو
- لَمَّاجب
- جَآءَهُمْان کے پاس آیا
- فَسَوْفَسو جلد
- يَاْتِيْهِمْان کے پاس آجائے گی
- اَنْۢبٰٓؤُاخبر (حقیقت)
- مَا كَانُوْاجو وہ تھے
- بِهٖاس کا
- يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے وہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 4
اشارہ ہے ہجرت اور ان کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے در پے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کرسکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انہیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصور تھا۔ بلکہ نبی ﷺ خود بھی آئندہ کے امکانات سے بیخبر تھے۔