Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 5

  1. مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴿5﴾

    1. مَثَلُمثال
    2. الَّذِيْنَان لوگوں کی
    3. حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَجو اٹھوائے گئے تورات
    4. ثُمَّپھر
    5. لَمْ يَحْمِلُوْهَاانہوں نے نہ اٹھایا اس کو
    6. كَمَثَلِ الْحِمَارِمانند مثال گدھے کے ہے
    7. يَحْمِلُ اَسْفَارًاجو اٹھاتا ہے بوجھ
    8. بِئْسَبری ہے
    9. مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَمثال اس قوم کی جنہوں نے
    10. كَذَّبُوْاجھٹلایا
    11. بِاٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کو
    12. وَاللّٰهُاور اللہ تعالیٰ
    13. لَا يَهْدِينہیں ہدایت دیتا
    14. الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَظالم قوم کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
جن لوگوں کو توراة کا حامل بنایا گیا تھا مگر انہوں نے اس کا بار نہ اُٹھایا، 7 اُن کی مثال اُس گدھے 8 کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔ اِس سے بھی زیادہ بُری مثال ہےاُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلا دیا ہے۔ 9 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجُمُعَة 7 اس فقرے کے دو معنی ہیں۔ ایک عام اور دوسرا خاص۔ عام معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں پر توراۃ کے علم و عمل، اور اس کے مطابق دنیا کی ہدایت کا بار رکھا گیا تھا، مگر نہ انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو سمجھا اور نہ اس کا حق ادا کیا۔ خاص معنی یہ ہیں کہ حامل توراۃ گروہ ہونے کی حیثیت سے جن کا کام یہ تھا کہ سب سے پہلے آگے بڑھ کر اس رسول کا ساتھ دیتے جس کے آنے کی صاف صاف بشارت توراۃ میں دی گئی تھی، مگر انہوں نے سب سے بڑھ کر اس کی مخالف کی اور توراۃ کی تعلیم کے تقاضے کو پورا نہ کیا۔ سورة الْجُمُعَة 8 یعنی جس طرح گدھے پر کتابیں لدی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ اس کی پیٹھ پر کیا ہے، اسی طرح یہ توراۃ کو اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ کتاب کس لیے آئی ہے اور ان سے کیا چاہتی ہے۔ سورة الْجُمُعَة 9 یعنی ان کا حال گدھے سے بھی بدتر ہے۔ وہ تو سمجھ بوجھ نہیں رکھتا اس لیے مغرور ہے۔ مگر یہ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ توراۃ کو پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ اس کے معنی سے ناواقف نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ اس کی ہدایات سے دانستہ انحراف کر رہے ہیں، اور اس نبی کو ماننے سے قصداً انکار کر رہے ہیں جو توراۃ کی رو سے سراسر حق پر ہے۔ یہ نافہمی کے قصور وار نہیں ہیں بلکہ جان بوجھ کر اللہ کی آیات کو جھٹلانے کے مجرم ہیں۔