Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 137

Tafseer
  1. وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ﴿137﴾

    1. وَاَوْرَثْنَااور ہم نے وارث کیا
    2. الْقَوْمَقوم
    3. الَّذِيْنَوہ جو
    4. كَانُوْاتھے
    5. يُسْتَضْعَفُوْنَکمزور سمجھے جاتے
    6. مَشَارِقَمشرق (جمع)
    7. الْاَرْضِزمین
    8. وَمَغَارِبَهَااور اس کے مغرب (جمع)
    9. الَّتِيْوہ جس
    10. بٰرَكْنَاہم نے برکت رکھی
    11. فِيْهَااس میں
    12. وَتَمَّتْاور پورا ہوگیا
    13. كَلِمَتُوعدہ
    14. رَبِّكَتیرا رب
    15. الْحُسْنٰىاچھا
    16. عَلٰيپر
    17. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    18. بِمَابدلے میں
    19. صَبَرُوْاانہوں نے صبر کیا
    20. وَدَمَّرْنَااور ہم نے برباد کردیا
    21. مَاجو
    22. كَانَ يَصْنَعُبناتے تھے (بنایا تھا)
    23. فِرْعَوْنُفرعون
    24. وَقَوْمُهٗاور اس کی قوم
    25. وَمَااور جو
    26. كَانُوْا يَعْرِشُوْنَوہ اونچا پھیلاتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کاوارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔97 اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدہٴِ خیر پورا ہوکیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُ س کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْرَاف 97 یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین کی سر زمین کا وارث بنادیا۔ بعض لوگوں نے اس کا مفہوم یہ لیا ہے کہ بنی اسرائیل خود سر زمین مصر کے مالک بنادیے گئے۔ لیکن اس کے معنی کو تسلیم کرنے کے لیے نہ تو قرآن کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوئی قوی شہادت ملتی ہے، اس لیے اس معنی کو تسلیم کرنے میں ہمیں تامل ہے۔ (ملاحظہ ہو الکہف حاشیہ 57۔ الشعراء حاشیہ 45)۔