تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 146
Tafseerسَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿146﴾
- سَاَصْرِفُمیں عنقریب پھیر دوں گا
- عَنْسے
- اٰيٰتِيَاپنی آیات
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- يَتَكَبَّرُوْنَتکبر کرتے ہیں
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- بِغَيْرِ الْحَقِّناحق
- وَاِنْاور اگر
- يَّرَوْاوہ دیکھ لیں
- كُلَّ اٰيَةٍہر نشانی
- لَّا يُؤْمِنُوْانہ ایمان لائیں
- بِهَااس پر
- وَاِنْاور اگر
- يَّرَوْادیکھ لیں
- سَبِيْلَراستہ
- الرُّشْدِہدایت
- لَا يَتَّخِذُوْهُنہ پکڑیں (اختیار کریں)
- سَبِيْلًاراستہ
- وَاِنْاور اگر
- يَّرَوْادیکھ لیں
- سَبِيْلَراستہ
- الْغَيِّگمراہی
- يَتَّخِذُوْهُاختیار کرلیں اسے
- سَبِيْلًاراستہ
- ذٰلِكَیہ
- بِاَنَّهُمْاس لیے کہ انہوں نے
- كَذَّبُوْاجھٹلایا
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیات کو
- وَكَانُوْااور تھے
- عَنْهَااس سے
- غٰفِلِيْنَغافل (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کِسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں 104، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھُٹلا یا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْرَاف 104
یعنی میرا قانون فطرت یہی ہے کہ ایسے لوگ کسی عبرت ناک چیز سے عبرت اور کسی سبق آموز شے سے سبق حاصل نہیں کرسکتے۔
”بڑا بننا“ یا ”تکبّر کرنا“ قرآن مجید اس معنی میں استعمال کرتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے بالا تر سمجھنے لگے اور خدا کے احکام کی کچھ پروا نہ کرے، اور ایسا طرز عمل اختیار کرے گویا کہ وہ نہ خدا کا بندہ ہے اور نہ خدا اس کا رب ہے۔ اس خودسری کی کوئی حقیقت ایک پندار غلط کے سوا نہیں ہے، کیونکہ خدا کی زمین میں رہتے ہوئے ایک بندے کو کسی طرح یہ حق پہنچتا ہی نہیں کہ غیر بندہ بن کر رہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ”وہ بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں۔“