تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 156
وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿156﴾
- وَاكْتُبْاور لکھدے
- لَنَاہمارے لیے
- فِيْمیں
- هٰذِهِاس
- الدُّنْيَادنیا
- حَسَنَةًبھلائی
- وَّاور
- فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
- اِنَّابیشک ہم
- هُدْنَآہم نے رجوع کیا
- اِلَيْكَتیری طرف
- قَالَاس نے فرمایا
- عَذَابِيْٓاپنا عذاب
- اُصِيْبُمیں پہنچاتا ہوں (دوں)
- بِهٖاس کو
- مَنْجس
- اَشَآءُمیں چاہوں
- وَرَحْمَتِيْاور میری رحمت
- وَسِعَتْوسیع ہے
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- فَسَاَكْتُبُهَاسو میں عنقریب لکھدوں گا
- لِلَّذِيْنَان کے لیے جو
- يَتَّقُوْنَڈرتے ہیں
- وَيُؤْتُوْنَاور دیتے ہیں
- الزَّكٰوةَزکوۃ
- وَالَّذِيْنَاور وہ جو
- هُمْوہ
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیات پر
- يُؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا۔“جواب میں ارشاد ہوا”سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے111 ، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْرَاف 111
یعنی اللہ تعالیٰ جس طریقے پر خدائی کر رہا ہے اس میں اصل چیز غضب نہیں ہے جس میں کبھی کبھی رحم اور فضل کی شان نمودار ہوجاتی ہو، بلکہ اصل چیز رحم ہے جس پر سارا نظام عالم قائم ہے اور اس میں غضب صرف اس وقت نمودار ہوتا ہے جب بندوں کا تمردُّحد سے فزوں ہوجاتا ہے۔