تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 4
Tafseerاَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ﴿4﴾
- اَوْ زِدْیا زیادہ کرلیں
- عَلَيْهِاس پر، سے
- وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَاور ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں قرآن
- تَرْتِيْلًاترتیل کے ساتھ
Translation · Tafheem-ul-Quran
یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، 3 اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُزَّمِّل 3
یہ اس مقدار وقت کی تشریح ہے جسے عبادت میں گزارنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس میں آپ کو اختیار دیا گیا کہ خواہ آدھی رات نماز میں صرف کریں، یا اس سے کچھ کم کردیں، اس سے کچھ زیادہ۔ لیکن انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل ترجیح آدھی رات ہے، کیونکہ اسی کو معیار قرار دے کر کمی بیشی کا اختیار دیا گیا ہے۔
سورة الْمُزَّمِّل 4
یعنی تیز تیز رواں دواں نہ پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھہرو، تاکہ ذہن پوری طرح کلام الہی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضامین سے متاثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت وہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس رحمت کا بیان ہے تو دل جذبات تشکر سے لبریز ہوجائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خوف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قرات محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کردینے کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرات کا طریقہ حضرت انس سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر بتایا کہ آپ اللہ، رحمان اور رحیم کو مد کے ساتھ پڑھا کرے تھے۔ (بخاری) حضرت ام سلمہ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضور ﷺ ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھہرتے جاتے تھے، مثلاً الحمد للہ رب العلمین پڑھ کر رکھ جاتے، پھر الرحمن الرحیم پر ٹھہرتے اور اس کے بعد رک کر ملک یوم الدین کہتے (مسند احمد۔ ابو داؤد۔ ترمذی۔ نسائی) حضرت حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضور ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوگیا تو آپ کی قرات کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پناہ مانگتے (مسلم، نسائی)۔ حضرت ابوذر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضور ﷺ اس مقام پر پہنچے ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم۔ (اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرما دے تو تو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دہراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی (مسند احمد، بخاری)۔