تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 48
Tafseerفَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ﴿48﴾
- فَمَا تَنْفَعُهُمْاور انہیں نفع نہ دیا
- شَفَاعَةُسفارش
- الشّٰفِعِيْنَسفارش کرنے والوں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ 36
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُدَّثِّر 36
یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کیے رکھی ہو ان کے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کرے بھی تو اسے معافی نہیں مل سکتی۔ شفاعت کے مسئلے کو قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آسکتی کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا، کس حالت میں کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی، کس کے لیے کی جاسکتی ہے اور کس کے لیے نہیں کی جاسکتی، اور کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں ہے۔ دنیا میں چونکہ لوگوں کی گمراہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب شفاعت کے بارے میں غلط عقائد بھی ہیں، اس لیے قرآن نے اس مسئلے کو اتنا کھول کر بیان کردیا ہے کہ اس میں کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں البقرہ، 255۔ الانعام، 94۔ الاعراف، 53۔ یونس، 3۔ 18۔ مریم، 78۔ طٰہٰ ، 109۔ الانبیاء، 28۔ سبا، 23۔ الزمر، 43۔ 44۔ المؤمن، 18۔ الدخان، 86۔ النجم 62۔ النبا، 37۔ 38۔ تفہیم القرآن میں جہاں جہاں یہ آیات آئی ہیں ہم نے ان کی اچھی طرح تشریح کردی ہے۔