تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 7
Tafseerوَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ﴿7﴾
- وَلِرَبِّكَاور اپنے رب کیلئے
- فَاصْبِرْصبر کرو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اپنے ربّ کی خاطر صبر کرو۔ 7
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُدَّثِّر 7
یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہوجائے گی۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہوجائے گا۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع، لالچ، دوستی، دشمنی، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہوگی۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا۔
یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ اٹھ کر نبوت کے کام کا آغاز فرما دیں۔ کوئی شخص اگر ان چھوٹے چھوٹے فقروں پر اور ان کے معانی پر غور کرے تو اس کا دل گواہی دے گا کہ ایک نبی کو نبوت کا کام شروع کرتے وقت اس سے بہتر کوئی ہدایات نہیں دی جاسکتی تھیں۔ ان میں یہ بھی بتادیا گیا کہ آپ کو کام کیا کرنا ہے، اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ اس کام کے لیے آپ کی زندگی اور آپ کے اخلاق اور معاملات کیسے ہونے چاہیں، اور یہ تعلیم بھی دی دی گئی کہ یہ کام آپ کس نیت، کس ذہنیت اور کس طرز فکر کے ساتھ انجام دیں، اور اس بات سے بھی خبردار کردیا گیا کہ اس کام میں آپ کو کن حالات سے سابقہ پیش آنا ہے اور ان کا مقابلہ آپ کو کس طرح کرنا ہوگا۔ آج جو لوگ تعصب میں اندھے ہو کر یہ کہتے کہ معاذ اللہ صرع کے دوروں میں یہ کلام رسول اللہ ﷺ کی زبان پر جاری ہوجایا کرتا تھا وہ ذرا آنکھیں کھول کر ان فقروں کو دیکھیں اور خود سوچیں کہ یہ صرع کے کسی دورے میں نکلے ہوئے الفاظ ہیں یا ایک خدا کی ہدایات ہیں جو رسالت کے کام پر مامور کرتے ہوئے وہ اپنے بندے کو دے رہا ہے ؟