تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 16
Tafseerلَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖؕ﴿16﴾
- لَا تُحَرِّكْآپ حرکت نہ دیں
- بِهٖاس (قرآن) کے ساتھ
- لِسَانَكَاپنی زبان کو
- لِتَعْجَلَکہ جلد (یاد کرلیں)
- بِهٖاس کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
11 اے نبیؐ ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقِیٰمَة 11
یہاں سے لے کر " پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے " تک کی پوری عبارت ایک جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیج میں توڑ کر نبی ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کر آئے ہیں، نبوت کے ابتدائی دور میں، جبکہ حضور ﷺ کو وحی اخذ کرنے کی عادت اور مشق پوری طرح نہیں ہوئی تھی، آپ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو یہ اندیشہ لاحق ہوجاتا تھا کہ جبریل ؑ جو کلام الہی آپ کو سنا رہے ہیں وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک یاد رہ سکے گا یا نہیں، اس لیے آپ وحی سننے کے ساتھ ساتھ اسے یاد کرنے کی کوشش کرتے لگتے تھے۔ ایسی ہی صورت اس وقت پیش آئی جب حضرت جبریل سورة قیامہ کی یہ آیات آپ کو سنا رہے تھے۔ چناچہ سلسلہ کلام توڑ کر آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ وحی کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ غور سے سنتے رہیں، اسے یاد کرا دینا اور بعد میں ٹھیک ٹھیک آپ سے پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے، آپ مطمئن رہیں کہ کلام کا ایک لفظ بھی آپ نہ بھولیں گے نہ کبھی اسے ادا کرنے میں غلطی کرسکیں گے۔ یہ ہدایت فرمانے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام " ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے " سے شروع ہوجاتا ہے۔ جو لوگ اس پس منظر سے واقف نہیں ہیں وہ اس مقام پر ان فقروں کو دیکھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کلام میں یہ بالکل بےجوڑ ہیں۔ لیکن اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد کلام میں کوئی ربطی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک استاد درس دیتے دیتے یکایک یہ دیکھے کہ طالبعلم کسی اور طرف متوجہ ہے اور وہ درس کا سلسلہ توڑ کر طالبعلم سے کہے کہ توجہ سے میری بات سنو اور اس کے بعد آگے پھر اپنی تقریر شروع کر دے۔ یہ درس اگر جوں کا توں نقل کر کے شائع کردیا جائے تو جو لوگ اس اصل واقعہ سے واقف نہ ہوں گے وہ اس سلسلہ تقریر میں اس فقرے کو بےجوڑ محسوس کریں۔ لیکن جو شخص اس اصل واقعہ سے واقف ہوگا جس کی بنا پر یہ فقرہ درمیان میں آیا ہے وہ مطمئن ہوجائے گا کہ درس فی الحقیقت جوں کا توں نقل کیا گیا ہے، اسے نقل کرنے میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی ہے۔
اوپر ان آیات کے درمیان یہ فقرے بطور جملہ معترضہ آنے کی جو توجیہ ہم نے کی ہے وہ محض قیاس پر مبنی نہیں ہے، بلکہ معتبر روایات میں اس کی یہی وجہ بیان ہوئی ہے۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن جریر، طبرانی، بہیقی اور دوسرے محدثین نے متعدد سندوں سے حضرت عبداللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جب حضور ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تھا تو آپ اس خوف سے کہیں کوئی چیز بھول نہ جائیں جبریل ؑ کے ساتھ ساتھ وحی کے الفاظ دہرانے لگتے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ۔۔۔۔ یہی بات شعبی، ابن زید، ضخاک، حسن بصری، قتادہ، مجاہد اور دوسرے اکابر مفسرین سے منقول ہے۔