Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 36

Tafseer
  1. وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ﴿36﴾

    1. وَلَااور نہ
    2. يُؤْذَنُاجازت دی جائیگی
    3. لَهُمْانہیں
    4. فَيَعْتَذِرُوْنَکہ وہ عذر خواہی کریں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عُذر پیش کریں۔ 20
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُرْسَلٰت 20 یہ ان کی آخری حالت ہوگی جو جہنم میں داخلہ کے وقت ان پر طاری ہوگی۔ اس سے پہلے میدان حشر میں تو یہ لوگ بہت کچھ کہیں گے۔ بہت سی معذرتیں پیش کریں گے، ایک دوسرے پر اپنے قصوروں کا الزام ڈال کر خود بےقصور بننے کی کوشش کریں گے، اپنے گمراہ کرنے والے سرداروں اور پیشواؤں کو گالیاں دیں گے، حتیٰ کہ بعض لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے جرائم کا انکار کر گزریں گے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مگر جب تمام شہادتوں سے ان کا مجرم ہونا پوری طرح ثابت کردیا جائے گا، اور جب ان کے اپنے ہاتھ پاؤں اور ان کے اعضاء تک ان کے خلاف گواہی دے کر ثبوت جرم میں کوئی کسر نہ چھوڑیں گے، اور جب بالکل بجا اور برحق طریقے سے عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے انہیں سزا سنا دی جائے گی تو وہ دم بخود رہ جائیں گے اور ان کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ عذر پیش کرنے کا موقع نہ دینے یا اس کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صفائی کا موقع دیے بغیر ان کے خلاف فیصلہ صادر کردیا جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم اس طرح قطعی ناقابل انکار حد تک ثابت کردیا جائے گا کہ وہ اپنی معذرت میں کچھ نہ کہہ سکیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میں نے اس کو بولنے نہیں دیا، یا میں نے اس کی زبان بند کردی، اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے اس پر ایسی حجت تمام کی کہ اس کے لیے زبان کھولنے یا کچھ بولنے کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔