تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 77. Al-Mursalaat · Ayah 7
Tafseerاِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿7﴾
- اِنَّمَابیشک جو
- تُوْعَدُوْنَتمہیں وعدہ دیاجاتا ہے
- لَوَاقِعٌضرور ہونے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے 2 وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ 3
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُرْسَلٰت 2
دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے "۔ مراد قیامت اور آخرت ہے۔
سورة الْمُرْسَلٰت 3
یہاں قیامت کے ضرور واقع ہونے پر پانچ چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ایک۔ المرسلت عرفا۔ " پے درپے، یا بھلائی کے طور پر بھیجی جانے والیاں "۔ دوسرے، العاصفات عصفا۔ " بہت تیزی اور شدت کے سات چلنے والیاں "۔ تیسرے، الناشرات نشرا۔ " خوب پھیلانے والیاں "۔ چوتھے، الفارقات فرقاً۔ " الگ الگ کرنے والیاں "۔ پانچویں، الملقیات ذکراً۔ " یاد کا القا کرنے والیاں "۔ چونکہ ان الفاظ میں صرف صفات بیان کی گئی ہیں، اور یہ صراحت نہیں کی گئی ہے کہ یہ کس چیز یا کن چیزوں کی صفات ہیں، اس لیے مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہوا ہے کہ آیا یہ پانچوں صفات ایک ہی چیز کی ہیں، یا الگ الگ چیزوں کی، اور وہ چیز یا چیزیں کیا ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ پانچوں سے مراد ہوائیں ہیں۔ دوسرا کہتا ہے بانچوں سے مراد فرشتے ہیں۔ تیسرا کہتا ہے پہلے تین سے مراد ہوائیں ہیں اور باقی دو سے مراد فرشتے ہیں۔ چوتھا کہتا ہے پہلے دو سے مراد ہوائیں اور باقی تین سے مراد فرشتے ہیں اور ایک گروہ کی رائے یہ بھی ہے کہ پہلے سے مراد ملائکہ رحمت، دوسرے سے مراد ملائکہ عذاب اور باقی تین سے مراد قرآن مجید کی آیات ہیں۔
ہمارے نزدیک پہلی بات تو یہ قابل غور ہے کہ جب ایک ہی سلسلہ کلام میں پانچ صفات کا مسلسل ذکر کیا گیا ہے اور کوئی علامت بیچ میں ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ سمجھا جاسکے کہ کہاں تک ایک چیز کی صفات کا ذکر ہے اور کہاں سے دوسری چیز کا ذکر شروع ہوا ہے، تو یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ محض کسی بےبنیاد یا قیاس کی بنا پر ہم یہ سمجھ لیں کہ یہاں دو باتیں مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، بلکہ اس صورت میں نظم کلام خود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پوری عبارت کو کسی ایک ہی چیز کی صفات سے متعلق مانا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی شک یا انکار کرنے والوں کو کسی حقیقت غیر محسوس کا یقین دلانے کے لیے کسی چیز، یا بعض چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے وہاں قسم دراصل استدلال کے ہم معنی ہوتی ہے، یعنی اس سے مقصود یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ چیز یا چیزیں اس حقیقت کے صحیح و برحق ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔ اس غرض کے لیے ظاہر ہے کہ ایک غیر محسوس شے کے حق میں کسی دوسری غیر محسوس شے کو بطور استدلال پیش کرنا درست نہیں ہو سکتا، بلکہ غیر محسوس پر محسوس سے دلیل لانا ہی موزوں اور مناسب ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں صحیح تفسیر یہی ہے کہ اس سے مراد ہوائیں ہیں، اور ان لوگوں کی تفسیر قابل قبول نہیں ہے جنہوں نے ان پانچوں چیزوں سے مراد فرشتے لیے ہیں، کیونکہ وہ بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح قیامت کا وقوع غیر محسوس ہے۔
اب غور کیجئے کہ قیامت کے و قوع پر ہواؤں کی یہ کیفیات کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ زمین پر جن اسباب سے حیوانی اور نباتی زندگی ممکن ہوئی ہے ان میں سے ایک نہایت اہم سبب ہوا ہے۔ ہر نوع کی زندگی سے اس کی صفات کا جو تعلق ہے وہ بجائے خود اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی قادر مطلق اور صانع حکیم ہے جس نے اس کرہ خاکی پر زندگی کو وجود لانے کا ارادہ کیا اور اس غرض کے لیے یہاں ایک ایسی چیز پیدا کی جس کی صفات زندہ مخلوقات کے وجود کی ضروریات کے ساتھ ٹھیک ٹھیک مطابقت رکھتی ہیں۔ پھر اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا ہے کہ زمین کو ہوا کا ایک لبادہ اڑھا کر چھوڑ دیا ہو، بلکہ اپنی قدرت اور حکمت سے اس ہوا میں اس نے بیشمار مختلف کیفیات پیدا کی ہیں جن کا انتظام لاکھوں کروڑوں برس سے اس طرح ہو رہا ہے کہ انہی کی بدولت موسم پیدا ہوتے ہیں، کبھی حبس ہوتا ہے اور کبھی باد نسیم چلتی ہے، کبھی گرمی آتی ہے اور کبھی سردی، کبھی بادل آتے ہیں اور کبھی آتے ہوئے اڑ جاتے ہیں، کبھی نہایت خوشگوار جھونکے چلتے ہیں اور کبھی انتہائی تباہ کن طوفان آجاتے ہیں، کبھی نہایت نفع بخش بارش ہوتی ہے اور کبھی کال پڑجاتا ہے۔ غرض ایک ہوا نہیں بلکہ طرح طرح کی ہوائیں ہیں جو اپنے اپنے وقت پر چلتی ہیں اور ہر ہوا کسی نہ کسی مقصد کو پورا کرتی ہے۔ یہ انتظام ایک غالب قدرت کا ثبوت ہے جس کے لیے نہ زندگی کو وجود میں لانا خارج از امکان ہوسکتا ہے، نہ اسے مٹا دینا، اور نہ مٹا کر دوبارہ وجود میں لے آنا۔ اسی طرح یہ انتظام کمال درجہ حکمت و دانائی کا ثبوت بھی ہے، جس سے صرف ایک نادان آدمی ہی یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ یہ سارا کاروبار محض کھیل کے طور پر کیا جا رہا ہو اور اس کا کوئی عظیم تر مقصد نہ ہو۔ اس حیرت انگیز انتظام کے مقابلے میں انسان اتنا بےبس ہے کہ کبھی وہ نہ اپنے لیے مفید طلب ہوا چلا سکتا ہے نہ اپنے اوپر ہلاکت خیز ہوا کا طوفان آنے کو روک سکتا ہے۔ وہ خواہ کتنی ہی ڈھٹائی اور بےشعوری اور ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے، کبھی نہ کبھی یہی ہوا اس کو یاد دلا دیتی ہے کہ اوپر کوئی زبردست اقتدار کار فرما ہے جو زندگی کے اس سب سے بڑے ذریعہ کو جب چاہے اس کے لیے رحمت اور جب چاہے ہلاکت کا سبب بنا سکتا ہے، اور انسان اس کے کسی فیصلے کو بھی روک دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم، الذاریات، حواشی 1 تا 4)۔