تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 78. An-Naba · Ayah 40
Tafseerاِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ع﴿40﴾
- اِنَّآ اَنْذَرْنٰكُمْبیشک ہم نے، خبردار کیا ہم نے تم کو
- عَذَابًا قَرِيْبًا ڄقریبی عذاب سے
- يَّوْمَ يَنْظُرُجس دن دیکھے گا
- الْمَرْءُانسان
- مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُجو آگے بھیجا اس کے دونوں ہاتھوں نے
- وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُاور کہے گا کافر
- يٰلَيْتَنِيْاے کاش کہ میں
- كُنْتُ تُرٰبًامیں ہوتا مٹی/خاک
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ 26 جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّبَا 26
بظاہر ایک آدمی یہ خیال کرسکتا ہے کہ جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی ان کو مرے ہوئے اب 14 سو سال گزر چکے ہیں اور اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا کتنے ہزار یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے وہ قریب آ لگا ہے ؟ اور سورة کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا ہے کہ عنقریب انہیں ہوجائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس صرف اسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی طور پر زندگی بسر کر رہا ہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کا احساس و شعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہر کر اٹھے گا اس وقت اسے یوں محسوس ہوگا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے۔ اس کو یہ احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ 26۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 56۔ جلد سوم۔ طٰہٰ ، حاشیہ 80۔ جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 48)۔
سورة النَّبَا 27
یعنی دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا، یا مر کر مٹی میں مل جاتا اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔