تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 24
Tafseerفَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ﴿24﴾
- فَقَالَ اَنَاپھر کہا میں
- رَبُّكُمُتمہارا رب ہوں
- الْاَعْلٰىسب سے اعلیٰ/ سب سے بڑا
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں تمہارا سب سے بڑا ربّ ہوں“ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النّٰزِعٰت 11
فرعون کا یہ دعویٰ کئی مقامات پر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ " اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا بنایا تو میں تمہیں قید کر دوں گا "۔ (الشعراء آیت 29)۔ ایک اور موقع پر اس نے اپنے دربار میں لوگوں کو خطاب کر کے کہا " اے سرداران قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا بھی ہے "۔ (القصص، آیت 38)۔ ان ساری باتوں سے فرعون کا یہ مطلب نہ تھا اور نہیں ہوسکتا تھا کہ وہی کائنات کا خالق ہے اور اسی نے یہ دنیا پیدا کی ہے۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر اور خود رب العالمین ہونے کا مدعی تھا۔ یہ مطلب بھی نہ تھا کہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مذہبی معنوں میں لوگوں کا معبود قرار دیتا تھا۔ قرآن مجید ہی میں اس بات کی شہادت موجود ہے کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہ خود دوسرے معبودوں کی پرستش کرتا تھا۔ چناچہ اس کے اہل دربار ایک موقع پر اس کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ " کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو یہ آزادی دیتے چلے جائیں گے کہ وہ ملک میں فساد پھیلائیں اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ " (الاعراف، آیت 127)۔ اور قرآن میں فرعون کا یہ قول بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر موسیٰ خدا کا بھیجا ہوا ہوتا تو کیوں نے اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا اس کے ساتھ ملائکہ اس کی اردلی میں کیوں نہ آئے ؟ (الزخرف، آیت 53)۔ پس درحقیقت وہ مذہبی معنی میں نہیں بلکہ سیاسی معنی میں اپنے آپ کو الہ اور رب اعلی کہتا تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اقتدار اعلی کا مالک میں ہوں، میرے سوا کسی کو میری مملکت میں حکم چلانے کا حق نہیں ہے، اور میرے اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جس کا فرمان یہاں جاری ہوسکتا ہو (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 85۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 21۔ الشعراء، حواشی 24۔ 26۔ القصص، حواشی 52۔ 53۔ جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 49)۔