Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 33

Tafseer
  1. مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ﴿33﴾

    1. مَتَاعًافائدے کی چیزیں/ فائدے کا سامان
    2. لَّكُمْواسطے تمہارے
    3. وَلِاَنْعَامِكُمْاور تمہارے مویشیوں کے لئے
Translation · Tafheem-ul-Quran
سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔ 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النّٰزِعٰت 18 ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے ان کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس سرد سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے مال حکمت کے جو آثار اس کائنات اور اس زمین میں صریحا نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بےمقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالم بالا میں بیشمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ خود اسی زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے کے اندر دن اور رات کا الٹ پھیر ہوجاتا ہے اور وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبے دن اور بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے خطوں میں ہے۔ اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ 6 مہینے کے دن اور 6 مہینے کی راتیں رکھنے والے علاقے آبادی کے بالکل قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے اسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی شہادت پیش کردی ہے کہ رات اور دن کی آمدو رفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہوگیا ہے بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے، اسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابل سکونت بن سکے، اس میں پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو، اس میں پہاڑوں کا جمانا اور وہ تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بن سکیں۔ یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ آفاقی حوادث یا کسی کھلنڈرے کے لیے بےمقصد کام نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہت بڑی حکیم و دانا ہستی نے بامقصد کیا ہے۔ اب یہ ہر صاحب عقل آدمی کے خود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا ؟ جو شخص ان ساری چیزوں کو دیکھنے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہوگی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور مقصدیت کے ساتھ ہو رہا ہے، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور بااختیار بنا کر پیدا کرنا بےمقصد اور بےحکمت ہے۔ کیونکہ اس سے بڑی کوئی بےمقصد اور بےحکمت بات نہیں ہو سکتی کہ اس زمین میں تصرف کے وسیع اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔