تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 39
Tafseerفَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ﴿39﴾
- فَاِنَّتو بیشک
- الْجَحِيْمَجہنم ہی
- ھِيَ الْمَاْوٰىوہ ٹھکانہ ہوگی
Translation · Tafheem-ul-Quran
دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النّٰزِعٰت 21
یہاں چند مختصر الفاظ میں یہ بتادیا گیا ہے کہ آخرت میں اصل فیصلہ کس چیز پر ہونا ہے۔ دنیا میں زندگی کا ایک رویہ ہے کہ آدمی بندگی کی حد سے تجاوز کر کے اپنے خدا کے مقابلے میں سرکشی کرے اور یہ طے کرلے کہ اسی دنیا کے فائدے اور لذتیں اسے مطلوب ہیں خواہ کسی طرح بھی وہ حاصل ہوں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ یہاں زندگی بسر کرتے ہوئے آدمی اس بات کو پیش نظر رکھے کہ آخر کار ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، اور نفس کی بری خواہشات کو پورا کرنے سے اس لیے باز رہے کہ اگر یہاں اس نے اپنے نفس کا کہا مان کر کوئی ناجائز فائدہ کما لیا یا کوئی ناروا لذت حاصل کرلی تو اپنے رب کو کیا جواب دے گا۔ آخرت میں فیصلہ اسی بات پر ہونا ہے کہ انسان نے ان دونوں میں سے کونسا رویہ دنیا میں اختیار کیا۔ پہلا رویہ اختیار کیا ہو تو اس کا مستقل ٹھکانا دوزخ ہے، اور دوسرا رویہ اختیار کیا ہو تو اس کی مستقل جائے قیام جنت۔