Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 57

  1. فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿57﴾

    1. فَاِمَّاپس اگر
    2. تَثْقَفَنَّهُمْتم انہیں پاؤ
    3. فِي الْحَرْبِجنگ میں
    4. فَشَرِّدْتو بھگا دو
    5. بِهِمْان کے ذریعہ
    6. مَّنْجو
    7. خَلْفَهُمْان کے پیچھے
    8. لَعَلَّهُمْعجب نہیں کہ وہ
    9. يَذَّكَّرُوْنَعبرت پکڑیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہو جائیں۔42 توقع ہے کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 42 اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قوم سے ہمارا معاہدہ ہو اور پھر وہ اپنی معاہدانہ ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر ہمارے خلاف کسی جنگ میں حصہ لے، تو ہم بھی معاہدے کی اخلاقی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہوجائیں گے اور ہمیں حق ہوگا کہ اس سے جنگ کریں۔ نیز اگر کسی قوم سے ہماری لڑائی ہو رہی ہو اور ہم دیکھیں کہ دشمن کے ساتھ ایک ایسی قوم کے افراد بھی شریک جنگ ہیں جس سے ہمارا معاہدہ ہے، تو ہم ان کو قتل کرنے اور ان سے دشمن کا سا معاملہ کرنے میں ہرگز کوئی تامل نہ کریں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں اپنی قوم کے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اپنے آپ کو اس کا مستحق نہیں رہنے دیا ہے کہ ان کی جان و مال کے معاملہ میں اس معاہدے کا احترام ملحوظ رکھا جائے جو ہمارے اور ان کی قوم کے درمیان ہے۔