Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 80. Abasa · Ayah 17

Tafseer
  1. قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ﴿17﴾

    1. قُتِلَ الْاِنْسَانُمارا جائے انسان
    2. مَآ اَكْفَرَهٗکیا سخت منکر ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
لعنت ہو 8 انسان پر، 9 کیسا سخت مُنکرِ حق ہے یہ۔ 10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة عَبَس 8 یہاں سے عتاب کا رخ براہ راست ان کفار کی طرف پھرتا ہے جو حق سے بےنیازی برت رہے تھے۔ اس سے پہلے آغاز سورة سے آیت 16 تک خطاب نبی ﷺ سے تھا اور عتاب در پردہ کفار پر فرمایا جا رہا تھا۔ اس کا انداز بیان یہ تھا کہ اے نبی، ایک طالب حق کو چھوڑ کر آپ یہ کن لوگوں پر اپنی توجہ صرف کر رہے ہیں جو دعوت حق کے نقطہ نظر سے بالکل بےقدر و قیمت ہیں اور جن کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جیسا عظیم القدر پیغمبر قرآن جیسی بلند مرتبہ چیز کو ان کے آگے پیش کرے۔ سورة عَبَس 9 قرآن مجید میں ایسے تمام مقامات پر انسان سے مراد نوع انسانی کا ہر فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناپسندیدہ صفات کی مذمت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ " انسان " کا لفظ کہیں تو اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ نوع انسانی کے اکثر افراد میں وہ مذموم صفات پائی جاتی ہیں، اور کہیں اس کے استعمال کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مخصوص لوگوں کو تعین کے ساتھ اگر ملامت کی جائے تو ان میں ضد پیدا ہوجاتی ہے، اس لیے نصیحت کا یہ طریقہ زیادہ موثر ہوتا ہے کہ عمومی انداز میں بات کہی جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حمٰ السجدہ، حاشیہ 65۔ الشوریٰ ، حاشیہ 75)۔ سورة عَبَس 10 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کس چیز نے اسے کفر پر آمادہ کیا ؟ " یعنی بالفاظ دیگر کس بل بوتے پر یہ کفر کرتا ہے ؟ کفر سے مراد اس جگہ حق کا انکار بھی ہے، اپنے محسن کے احسانات کی ناشکری بھی، اور اپنے خالق و رازق اور مالک کے مقابلہ میں باغیانہ روش بھی۔